آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی نقل و حمل میں تیزی آئی ہے، کیونکہ خلیجی خطے سے توانائی کی فراہمی بحال ہو رہی ہے۔ امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ سے ترسیل روزانہ تقریباً 90 لاکھ بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ رائٹ نے یہ تازہ اعداد ایکس پر شیئر کیے اور خلیج سے توانائی کی بڑھتی نقل و حرکت کو اجاگر کیا۔
ان کے مطابق خلیجی ممالک اب مختلف راستوں سے روزانہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل تیل عالمی منڈیوں کو بھیجتے ہیں، جبکہ پائپ لائنز اور متبادل برآمدی سہولتیں خطے سے باہر روزانہ 50 سے 70 لاکھ بیرل اضافی تیل منتقل کرتی ہیں۔ میرین ٹریفک کے اعداد کے مطابق منگل کے روز سات بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔
بحری واقعات کے باوجود ترسیل جاری
سیکیورٹی خدشات کے باوجود ترسیل جاری ہے۔ سی این این کے مطابق منگل کو مشرق وسطیٰ کے پانیوں میں بمباری کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے خلیج عمان میں پاناما کے جھنڈے والے ایک کارگو بحری جہاز کے خلاف کارروائی کی تفصیل جاری کی؛ کمانڈ کے مطابق جہاز ایران کے خلاف امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہا تھا، جس پر امریکی بحریہ کے ہیلی کاپٹر نے دو میزائل داغے اور جہاز کی اسٹیئرنگ ناکارہ ہو گئی۔ بعد ازاں جہاز ایران کی جانب سفر روک چکا تھا۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے خلیج عمان میں ایک کنٹینر بحری جہاز پر حملے کی اطلاع دی، جس میں عملے نے ہنگامی مدد طلب کی اور جہاز پر 17 افراد سوار تھے۔ یو کے ایم ٹی او نے جنوبی بحیرہ احمر میں بھی ایک کارگو جہاز پر نامعلوم پروجیکٹائل لگنے کی اطلاع دی، جس سے جانی نقصان بھی ہوا۔
عالمی منڈیوں کی نظر
روزانہ 90 لاکھ بیرل کی ترسیل آبنائے ہرمز کی عالمی توانائی فراہمی میں مسلسل اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ کسی بھی خلل سے شپنگ لاگت، انشورنس نرخوں، تیل کی قیمتوں اور عالمی منڈیوں کی توقعات پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاجر اب بحری جہازوں کی آمدورفت اور علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر گہری نظر رکھیں گے۔

