ہر اگست میں پاکستان سبز اور سفید رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ چھتوں پر جھنڈے لہراتے ہیں، حب الوطنی کے نغمے ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر گونجتے ہیں، اور 14 اگست کی تیاریاں زوروں پر ہوتی ہیں۔ لیکن 2026 کے یوم آزادی پر ملک کی نوجوان نسل ایک گہرا سوال پوچھ رہی ہے: کیا جنریشن زیڈ آج خود کو واقعی آزاد محسوس کرتی ہے؟
بہت سے نوجوان پاکستان سے محبت کرتے ہوئے بھی اس کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔ وہ 1947 کی قربانیوں کا احترام کرتے ہیں، لیکن سوال کرتے ہیں کہ کیا آج کا معاشی اور سیاسی ماحول انہیں وہ مواقع دیتا ہے جن سے وہ اپنی مرضی کی زندگی بنا سکیں۔ ان کے سوالات مختلف ہیں: کیا یونیورسٹی کے بعد اچھی نوکری ملے گی؟ کیا اپنا کاروبار شروع کر سکوں گا؟ کیا میری صلاحیت سفارش سے زیادہ اہمیت رکھے گی؟ کیا میں پاکستان چھوڑے بغیر اپنا مستقبل بنا سکتا ہوں؟
روزگار کے اعداد و شمار
بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے جولائی 2026 کے اعداد و شمار صورتحال کی سنگینی واضح کرتے ہیں۔ پاکستان میں 15 سے 24 سال کی عمر کے تقریباً 46.3 ملین افراد ہیں، جن میں سے 20.6 ملین لیبر فورس میں شامل ہیں جبکہ تقریباً 2.6 ملین بے روزگار ہیں۔ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 12.8 فیصد ہے، جبکہ مجموعی بے روزگاری 7.1 فیصد ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ 15 سے 24 سال کی عمر کے تقریباً 28.4 فیصد نوجوان نہ روزگار میں ہیں، نہ تعلیم میں اور نہ کسی تربیت میں۔
تعلیم بھی کیریئر شروع ہونے سے پہلے مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ ٹیوشن فیس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، رہائش، انٹرنیٹ، لیپ ٹاپ اور کتابوں کے اخراجات درمیانے اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے بوجھ بن چکے ہیں۔ اور جب مہنگی ڈگری کے بعد مناسب روزگار نہ ملے تو مایوسی دوگنی ہو جاتی ہے۔
فری لانسنگ اور اے آئی: نئی آزادی
جب روایتی ملازمتوں نے مواقع نہ دیے تو بہت سے نوجوانوں نے خود متبادل تلاش کیے۔ انہوں نے فری لانسنگ شروع کی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ سیکھی، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ میں قدم رکھا اور یوٹیوب چینل بنائے۔ چھوٹے شہر میں بیٹھا نوجوان اب دبئی، لندن، نیویارک یا سڈنی کے کلائنٹس کے لیے کام کر سکتا ہے۔ یہ آزادی کی ایک بالکل مختلف شکل ہے۔
مصنوعی ذہانت نے اس تبدیلی کو ایک اور جہت دی ہے۔ ایک عام لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ رکھنے والا طالب علم آج ایسی ٹیکنالوجی استعمال کر سکتا ہے جو چند سال پہلے مہنگے پیشہ ورانہ انفراسٹرکچر کی متقاضی تھی۔ لیکن اس سے مقابلہ بھی عالمی ہو گیا ہے؛ اب نوجوان پاکستانی صرف مقامی فارغ التحصیل افراد سے نہیں بلکہ دنیا بھر کے ڈیجیٹل ورکرز سے مقابلہ کرتے ہیں۔
حب الوطنی کی نئی تعریف
یوم آزادی سے قبل آن لائن مباحثوں میں نوجوانوں کی تقسیم واضح نظر آئی۔ کچھ مایوس تھے، کچھ نے حکومتوں سے ناراضی کو وطن سے محبت سے الگ رکھا۔ تنقید خود بخود مسترد کرنے کے مترادف نہیں؛ کبھی کبھی لوگ اپنے ملک پر تنقید اسی لیے کرتے ہیں کیونکہ وہ اس کے بہتر مستقبل کی خواہش رکھتے ہیں۔
شاید جنریشن زیڈ کم حب الوطن نہیں ہو رہی، بلکہ حب الوطنی کی اس کی تعریف بدل رہی ہے۔ جھنڈا لہرانا اہم ہے، لیکن بدعنوانی سے انکار بھی اہم ہے۔ حب الوطنی کے نغمے گانا اہم ہے، لیکن دس پاکستانیوں کو روزگار دینے والا کاروبار بنانا بھی حب الوطنی ہے۔
نوجوانوں کی بنیادی خواہشات حیران کن حد تک سادہ ہیں: مواقع، عزت، استحکام، اچھی تعلیم، بامعنی روزگار، تحفظ، میرٹ، مالی آزادی اور ایسے ادارے جن پر بھروسہ کیا جا سکے۔ اور سب سے بڑھ کر، یہ یقین کہ پاکستان میں محنت کا صلہ مل سکتا ہے۔
14 اگست 2026 کو پاکستان ایک بار پھر سبز اور سفید روشنیوں میں جگمگائے گا۔ لیکن ان جشنوں کے پیچھے لاکھوں نوجوان تعلیم، روزگار، مہنگائی اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتے رہیں گے۔ جنریشن زیڈ کو صرف ایک آزاد پاکستان ورثے میں نہیں چاہیے؛ وہ اسے بہتر بنانے کی آزادی اور مواقع بھی چاہتی ہے۔

