ویب ڈیسک: امریکا میں ایچ ون بی ویزا رکھنے والے ہزاروں ہنر مند غیر ملکی ورکرز کو ایک نئی بڑی مشکل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ملازمت ختم ہونے کے بعد ملنے والی 60 روزہ مہلت ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
موجودہ قانون کے تحت اہل ورکرز کو ملازمت ختم ہونے کے بعد 60 روز تک کا وقت ملتا ہے جس میں وہ نیا اسپانسر تلاش کر سکتے ہیں۔ یہ مہلت نوکری سے غیر متوقع طور پر محروم ہونے والے غیر ملکی پیشہ ور افراد کے لیے ایک اہم حفاظتی ونڈو فراہم کرتی ہے۔ تجویز منظور ہونے کی صورت میں ملازمت جانے کے فوراً بعد ورکرز کو امریکا چھوڑنا پڑ سکتا ہے، جب تک وہ کوئی اور قانونی امیگریشن آپشن حاصل نہ کر لیں۔
تجویز کی تفصیل
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے فیڈرل رجسٹر کے ذریعے اس مجوزہ ضابطے کی تبدیلی کا خاکہ پیش کیا ہے۔ اس کا اثر ایچ ون بی ورکرز کے ساتھ ساتھ دیگر عارضی ملازمتی ویزوں کے حامل افراد پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، صحت، مالیات اور تحقیق سمیت کئی شعبوں کے ہنر مند افراد بے یقینی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
امریکا عام طور پر سالانہ 65 ہزار ایچ ون بی ویزے جاری کرتا ہے جبکہ امریکی اداروں سے اعلیٰ ڈگری رکھنے والوں کے لیے مزید 20 ہزار ویزے مختص ہیں۔ ورکرز اکثر امریکا میں کئی سال تک ایچ ون بی اسٹیٹس پر کیریئر بناتے ہیں، اس لیے ملازمت سے متعلق امیگریشن قوانین میں کوئی بھی بڑی تبدیلی ورکرز اور ان کے خاندانوں دونوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
حامی اور ناقدین
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ کمپنیوں نے ایچ ون بی نظام کا غلط استعمال کیا ہے جس سے امریکی ورکرز کو نقصان پہنچا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امیگریشن اصلاحات سے امریکی ملازمتیں محفوظ رہیں گی اور زیادہ ہنر مند و زیادہ تنخواہ والے ورکرز کو راغب کیا جائے گا۔
دوسری جانب ناقدین کو خدشہ ہے کہ سخت قوانین سے امریکا بین الاقوامی ٹیلنٹ کے لیے کم پرکشش ہو جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ کاروباری اداروں کو انتہائی مہارت والی ملازمتوں کے لیے ورکرز کی بھرتی میں مشکل ہو سکتی ہے۔ کینیڈا، آسٹریلیا اور برطانیہ جیسے ممالک بھی بین الاقوامی پیشہ ور افراد کو راغب کرنے کی دوڑ میں ہیں، اس لیے بے یقینی سے کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ گریجویٹس دوسرے ممالک کا رخ کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ ایک مجوزہ ضابطاتی تبدیلی ہے — اس کا اعلان ہونا یہ نہیں کہ ہر اقدام فوری نافذ ہو جائے گا۔ ورکرز کو سرکاری امیگریشن اپڈیٹس پر نظر رکھنی چاہیے اور سوشل میڈیا کی غیر مصدقہ خبروں پر ملازمت یا سفر کے بڑے فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔

