ڈیمنشیا ایک طبی حالت ہے جو دماغ کی سوچنے، یاد رکھنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ یہ کوئی واحد بیماری نہیں بلکہ دماغی خلیوں کو نقصان سے پیدا ہونے والے عوارض کا مجموعہ ہے، جن میں الزائمر سب سے عام قسم ہے۔ ڈیمنشیا راتوں رات نہیں ہوتا؛ یہ بتدریج پیدا ہوتا ہے کیونکہ دماغی خلیے نقصان زدہ ہو کر ایک دوسرے سے رابطے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔
ابتدائی مراحل میں علامات اکثر ہلکی اور نظرانداز ہونے والی ہوتی ہیں۔ طبی ماہرین واضح کرتے ہیں کہ ڈیمنشیا بڑھاپے کا معمول کا حصہ نہیں۔ عمر کے ساتھ کبھی کبھار بھولنا ہو سکتا ہے، مگر سوچ، شخصیت یا رویے میں مستقل تبدیلیاں کسی سنگین چیز کی علامت ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے بروقت آگاہی اہم ہے۔
یادداشت سے پہلے شخصیت میں تبدیلی
برسوں تک یادداشت کی کمی کو پہلی انتباہی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر جدید تحقیق نے یہ سمجھ بدل دی ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن کی پروفیسر گل لیونگسٹن کے مطابق خاندان اکثر تشخیص سے بہت پہلے رویے اور جذبات میں تبدیلیاں نوٹ کرتے ہیں، جن میں اعتماد، مزاج اور سماجی رویے میں تبدیلی شامل ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق ڈیمنشیا واضح علامات سے برسوں پہلے دماغ میں خاموشی سے شروع ہوتا ہے۔
نیشنل انسٹیٹیوٹس آف ہیلتھ کے محققین کی ایک بڑی طویل مدتی تحقیق میں 20 ہزار سے زائد افراد کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔ ماہرین اب مانتے ہیں کہ کئی صورتوں میں شخصیت میں تبدیلی یادداشت کی کمی سے پہلے ظاہر ہو سکتی ہے۔
پوشیدہ انتباہی علامات
ابتدائی علامات میں فیصلہ سازی میں دشواری، مانوس کاموں میں الجھن، الفاظ تلاش کرنے میں مشکل، مزاج میں اتار چڑھاؤ، سماجی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اور چیزوں کو غلط جگہ رکھنا شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ تبدیلیاں مستقل ہوں تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ بروقت تشخیص سے مریض طبی معاونت حاصل کر سکتا ہے اور حالت کو بہتر طریقے سے سنبھال سکتا ہے۔

