ویب ڈیسک
لاہور کی جوڈیشل مجسٹریٹ نے 20 سالہ آذربائیجانی خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے مقدمے میں ایک خاتون ملزمہ کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
خاتون ملزمہ کو سخت سیکیورٹی میں کینٹ کی عدالتوں میں جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود کے روبرو پیش کیا گیا۔ پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ یہ اس کا پہلا جسمانی ریمانڈ ہے اور خاتون ہونے کے باعث اسے ریمانڈ کے دوران جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔
ملزمہ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مدعیہ کے ساتھ اس کا تعلق دوستی تک محدود تھا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ خاتون کا جسمانی ریمانڈ صرف قتل یا ڈکیتی کے مقدمات میں مانگا جا سکتا ہے اور اس سے کچھ برآمد بھی نہیں کرانا۔
مجسٹریٹ نے ملزمہ سے پوچھا کہ کیا وہ طبی معائنہ کرانا چاہتی ہے۔ "نہیں، میں طبی معائنہ نہیں کرانا چاہتی،” اس نے جواب دیا۔ اس کے بعد عدالت نے تین روزہ ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک پولیس کی تحویل میں اور رات بھر جوڈیشل تحویل میں جیل میں رہے گی۔
مقدمے کا پس منظر
کاروباری دورے پر پاکستان آنے والی مدعیہ نے رپورٹ درج کرائی تھی کہ 25 اور 26 ستمبر کی درمیانی شب رائیونڈ کے قریب ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے کرائے کے فلیٹ میں تین افراد نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔ ڈیفنس سی پولیس نے 26 ستمبر کو تین نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا۔
اپنے بیان میں مدعیہ نے دو ایسی خواتین کے نام لیے تھے جن سے وہ ملزمان کے آنے سے پہلے ملی تھی۔ دو مرد ملزمان کو گرفتار کر کے منگل کو چھ روزہ جسمانی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ سیشن عدالت نے دوسری خاتون ملزمہ کو عبوری ضمانت قبل از گرفتاری دیتے ہوئے پولیس کو 5 اکتوبر تک اس کی گرفتاری سے روک دیا۔ اس کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے پولیس تفتیش میں شامل ہونا چاہتی ہے۔
چار ماہ میں دوسرا واقعہ
ڈان کی رپورٹ کے مطابق ڈیفنس سی تھانے کے علاقے میں گزشتہ چار ماہ کے دوران یہ دوسرا مقدمہ ہے جس میں کسی غیر ملکی خاتون کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کی گئی۔ جون میں نیدرلینڈز اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی دو غیر ملکی خواتین کو مبینہ طور پر اغوا کر کے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق پانچ ملزمان، جن میں ایک سینئر سیاسی شخصیت کا قریبی رشتہ دار بھی شامل تھا، نے خواتین کو اغوا کیا، تاوان مانگا اور قید کے دوران ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔

