گلگت بلتستان میں موسم سرما نے دستک دے دی ہے۔ پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع خنجراب پاس میں سیزن کی پہلی برفباری ہوئی ہے جس کے بعد بلند پہاڑی علاقہ برف کی سفید چادر میں ڈھک گیا ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً 4,693 میٹر کی بلندی پر واقع خنجراب پاس دنیا کے بلند ترین بین الاقوامی سرحدی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔
سیاحوں میں جوش و خروش
پہلی برفباری کی خبر نے سیاحوں اور موسم کے شوقین افراد میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ ہنزہ، خنجراب نیشنل پارک اور شاہراہ قراقرم کے اطراف برف سے ڈھکے مناظر سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ رہے ہیں۔ شمالی علاقہ جات موسم سرما میں ہر سال ہزاروں سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔
سفر میں احتیاط کی ضرورت
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں کا موسم تیزی سے بدلتا ہے۔ برف سے ڈھکی سڑکیں، کم حد نگاہ اور شدید سردی مسافروں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ حکام عام طور پر سیاحوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ سفر سے قبل سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں، گرم کپڑوں کا بندوبست رکھیں اور موسم کی تازہ ترین معلومات حاصل کرتے رہیں۔
تجارت اور مقامی زندگی
خنجراب پاس صرف سیاحت ہی نہیں بلکہ تجارت کے لیے بھی اہم راستہ ہے۔ سخت موسمی حالات کے باوجود سست ڈرائی پورٹ کے ذریعے تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ مقامی آبادی کے لیے برفباری کا مطلب سردیوں کی تیاریاں تیز کرنا ہے۔ رہائشی ہیٹنگ کے انتظامات، گرم ملبوسات اور ضروری سامان کا ذخیرہ پہلے سے کر لیتے ہیں کیونکہ شدید برفباری میں آمدورفت اور رابطے متاثر ہو سکتے ہیں۔
ماحولیاتی خدشات
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان میں حالیہ برسوں میں موسم کے غیر معمولی رجحانات دیکھے گئے ہیں۔ برفباری کے اوقات میں تبدیلی اور گلیشیئرز کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے ہزاروں گلیشیئر لاکھوں افراد کے لیے پانی کا ذریعہ ہیں اور صحت مند برفباری کا سلسلہ ان قدرتی نظاموں کی بقا کے لیے ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ برفباری کی خوبصورتی کے ساتھ اس کی ماحولیاتی اہمیت کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ پائیدار سیاحت کو فروغ دینا اور ماحول کو نقصان سے بچانا آنے والی نسلوں کے لیے ان علاقوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔

