معروف ٹک ٹاکر علینا عامر نے بچوں کے تحفظ کے لیے لاہور پریس کلب میں آگاہی پریس کانفرنس منعقد کی۔ وہ کراچی میں 18 ماہ کی بچی ایزل علی کے ساتھ پیش آنے والے دلخراش واقعے پر انصاف کی مہم میں شامل ہوئی ہیں۔
علینا عامر نے "سیو آور چلڈرن” کے نعرے کے ساتھ شہریوں سے اپیل کی کہ بچوں کے خلاف جرائم پر خاموشی توڑیں اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بچے تحفظ، سلامتی اور انصاف کے مستحق ہیں۔
مہم کا پس منظر
دی کرنٹ کی رپورٹ کے مطابق بچی کی والدہ نے واقعے کے بعد احتجاجی تحریک شروع کی تھی جس میں بعد میں علینا عامر بھی شامل ہوئیں۔ مہم کراچی سے شروع ہوئی اور اب لاہور تک پھیل رہی ہے۔
تشویشناک اعداد و شمار
یونیسیف کی 3 ستمبر کو جاری تحقیق کے مطابق پاکستان میں 12 سے 17 سال کی عمر کے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچوں میں سے تقریباً 16 میں سے ایک بچہ ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کا شکار ہوا — یہ تعداد تقریباً 15 لاکھ بچوں کے برابر ہے۔ نصف سے زائد متاثرہ بچوں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا۔
آئی جی پنجاب عبدالکریم نے حال ہی میں کہا تھا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم میں بڑی تعداد میں مجرم متاثرین کے جاننے والے ہوتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی بچوں کے خلاف جرائم کو اپنی سب سے بڑی تشویش قرار دے چکی ہیں اور مجرموں کے خلاف کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔
علینا عامر کا کہنا ہے کہ آگاہی کے ساتھ ساتھ خاندانوں، اسکولوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پالیسی سازوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ بچوں کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنایا جا سکے۔

