کراچی: پاکستان ریلوے نے ٹکٹ چیکنگ کے عمل سے متعلق نئی وضاحت جاری کر دی ہے۔ حکام کے مطابق ریلوے پولیس کے اہلکار بغیر ٹکٹ سفر کرنے والے مسافروں کی خود سے چیکنگ یا ان پر جرمانہ عائد نہیں کریں گے بلکہ کمرشل چیکنگ ٹیموں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔
پاکستان ریلوے نے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور سینئر جنرل مینیجر کی منظوری کے بعد یہ وضاحت جاری کی۔ ریلوے کمرشل برانچ نے اے آئی جی آپریشنز ریلوے پولیس کو تفصیلی ہدایات بھیج دی ہیں جن میں پولیس اہلکاروں اور کمرشل عملے کی ذمہ داریاں الگ الگ واضح کی گئی ہیں۔
پولیس کا کردار معاون ہوگا
خط کے مطابق ریلوے پولیس ٹرینوں اور اسٹیشنوں پر ٹکٹ چیکنگ آپریشنز میں حصہ لے گی۔ پولیس اہلکار سفر کے دوران نظر آنے والی کسی بے ضابطگی کی اطلاع دے سکتے ہیں، تاہم وہ یکطرفہ کارروائی کے بجائے متعلقہ ٹکٹ چیکنگ عملے کو آگاہ کریں گے۔ ٹکٹ چیکنگ کی بنیادی ذمہ داری کمرشل حکام کی ہی رہے گی۔
مشترکہ آپریشنز کا ہفتہ وار پروگرام
ریلوے پولیس کمرشل ٹیموں کے ساتھ مشترکہ آپریشنز میں بھی حصہ لے گی جو بنیادی طور پر بغیر درست ٹکٹ سفر کرنے والے مسافروں کو نشانہ بنائیں گے۔ چیف کمرشل مینیجر کا دفتر مشترکہ ٹکٹ چیکنگ آپریشنز کا ہفتہ وار پروگرام تیار کرے گا اور چیکنگ سے پہلے متعلقہ ڈی آئی جی ریلوے پولیس سے رابطہ کیا جائے گا۔
حکام نے منتخب ریلوے اسٹیشنوں اور مخصوص ٹرینوں پر باقاعدہ اچانک چیکنگ کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔ خصوصی ٹیمیں ٹریولنگ ٹکٹ ایگزامینرز کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔
پہلے کی خبروں کی تردید
وضاحت میں ان خبروں کو بھی مسترد کیا گیا جن میں کہا گیا تھا کہ ریلوے پولیس نے ٹکٹ چیکنگ کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ حکام کے مطابق پولیس ٹیموں کا کردار نئے نظام میں صرف معاون ہے جبکہ ٹریولنگ ٹکٹ ایگزامینرز اور کمرشل ملازمین اپنے معمول کے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔
ریلوے انتظامیہ کا ماننا ہے کہ مضبوط ٹکٹ چیکنگ سے بغیر ٹکٹ سفر سے ہونے والے محصولات کے نقصان میں کمی آئے گی۔ نئے نظام میں ایک محکمے کو مکمل اختیار دینے کے بجائے تعاون پر توجہ دی گئی ہے۔

