اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کا ہر تنازع میں دفاع کرے گا، خواہ خطرہ حوثیوں کی جانب سے ہو یا کسی اور قوت کی طرف سے۔
الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کے خلاف پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ ان کے بقول پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے انتظام کا پابند ہے اور پاکستان کے پاس جو بھی وسائل دستیاب ہیں وہ سعودی عرب کے لیے بھی دستیاب ہوں گے۔
حوثیوں کی جارحیت
خواجہ آصف نے کہا کہ ان کے ذہن میں کوئی شک نہیں کہ حوثی سعودی عرب کے خلاف جارحیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حوثی سعودی عرب کے دشمن ہیں اور سعودی عرب کا ہر دشمن پاکستان کا دشمن ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان لڑائی میں شدت آ گئی ہے۔ حوثیوں نے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کر رکھا ہے اور بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
دفاعی معاہدے
پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دو دفاعی معاہدے کر رکھے ہیں۔ ستمبر 2025 میں اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہوگا۔ 7 اگست کو ترکیے سمیت مکہ دفاعی اتحاد قائم ہوا جس میں ایک رکن پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔ گزشتہ ہفتے تینوں ممالک کی عسکری قیادت نے ریاض میں ملاقات کر کے ان وعدوں کو عملی تعاون میں بدلنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
18 ستمبر کو آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی کہا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا اور مملکت کی سلامتی سے متعلق اسلام آباد کا عزم غیر مشروط ہے۔
ویب ڈیسک

