اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اتحادی جماعتوں سے مشاورت کا سلسلہ شروع کرنے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کریں گے۔
یہ مشاورت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب حکومت کو دارالحکومت کی جانب پی ٹی آئی کے احتجاجی مارچ کا سامنا ہے اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج سمیت سخت آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کا معاملہ
ایجنڈے میں سرفہرست خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا ممکنہ نفاذ ہے۔ مرکز کا موقف ہے کہ صوبے میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے حال ہی میں کراچی میں صدر مملکت سے ملاقات کی تھی جس کے بعد وزیراعظم نے صدر اور پیپلز پارٹی سے مشاورت کا فیصلہ کیا۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ امریکہ سے واپسی پر شہباز شریف کو سیاسی صورتحال پر بریفنگ دی گئی اور انہیں آگاہ کیا گیا کہ آئین کے تحت ہنگامی حالت کے نفاذ کا حق حکومت کے پاس محفوظ ہے۔
ن لیگ پیپلز پارٹی مذاکرات
بدھ کو اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ پیپلز پارٹی کی شیری رحمان اور سید نوید قمر نے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری سے ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد اعظم نذیر تارڑ نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ پیپلز پارٹی کے ارکان سے ہنگامی حالت پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج کا نفاذ آئینی حق ہے جو حالات کا تقاضا ہونے پر نافذ کیا جا سکتا ہے۔ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے باعث آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی زیر غور ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما نیر بخاری نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بارے میں پارٹی سے مشاورت کرے گی تو پارٹی آئین اور قانون کے مطابق اپنی رائے دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی سیکیورٹی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
اپوزیشن سے رابطے
وزیراعظم اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کے درمیان بھی ملاقات متوقع ہے۔ شہباز شریف نے امریکہ روانگی سے قبل اچکزئی کو قومی امور پر مشاورت کی دعوت دی تھی۔ توقع ہے کہ وزیراعظم جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان سے بھی پیٹرولیم لیوی پر تبادلہ خیال کریں گے۔
ویب ڈیسک

