کراچی: دفتر خارجہ کے مطابق پنٹ لینڈ فورسز کی جانب سے اغوا شدہ آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے بعد پاکستان جاں بحق اور زخمی عملے کو وطن واپس لانے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
جاں بحق ہونے والے تینوں پاکستانیوں کی شناخت رفیع اللہ خان، سید کاشف عمر اور محمود احمد انصاری کے نام سے ہوئی ہے۔ زخمی ہونے والے چار عملے میں سے تین بھی پاکستانی شہری ہیں۔
بازیابی کا آپریشن
پنٹ لینڈ کی بحری اور زمینی یونٹوں نے بندر بیلہ ضلع کے دھارین بار علاقے میں منصوبہ بند کارروائی کر کے جہاز کو بازیاب کرایا۔ پنٹ لینڈ کی وزارت اطلاعات کے مطابق آپریشن سے قبل قزاقوں نے جہاز پر سوار عملے کے پانچ افراد کو قتل کر دیا تھا جن میں تین پاکستانی، ایک میانمار اور ایک بھارتی شہری شامل تھا۔ چار دیگر عملے کے ارکان زخمی ہوئے جن میں تین پاکستانی اور ایک بھارتی شامل ہے۔
انصار برنی ٹرسٹ کی وکیل قرۃ العین کے مطابق قزاقوں نے پنٹ لینڈ فورسز کو آتے دیکھ کر یرغمالیوں کو ڈیک پر لا کر ان کے ہاتھ باندھ دیے تھے اور دھمکی دی تھی کہ تاوان ادا کیے بغیر فورسز قریب آئیں تو انہیں قتل کر دیا جائے گا۔ اس وقت تاوان کی رقم 3 ملین ڈالر سے کم کر کے ایک ملین ڈالر کر دی گئی تھی۔
اہل خانہ کی فریاد
جاں بحق ہونے والے تینوں افراد کا تعلق کراچی سے تھا۔ زخمی فٹر امین بن شمس کی اہلیہ عائشہ امین نے کہا کہ اہل خانہ نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بارہا حکومت سے مدد مانگی تھی مگر کبھی ایسا سیکیورٹی آپریشن نہیں چاہا تھا جس سے جانوں کو مزید خطرہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اہل خانہ سے کہا تھا کہ کسی بھی سیکیورٹی آپریشن کے دوران کسی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری حکومت پر نہ ڈالی جائے مگر انہوں نے اس سے انکار کر دیا تھا۔
سیکنڈ آفیسر سید کاشف عمر کے بیٹے اظہار کاشف نے کہا کہ ان کے والد کی شہادت کے بعد کسی سرکاری نمائندے نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔ انہیں صرف ایک شپنگ ایجنسی کا پیغام ملا کہ وہ صومالیہ یا دبئی آ کر اپنے والد کی شناخت کریں۔
تھرڈ انجینئر محمود احمد انصاری کے بیٹے مزمل احمد انصاری نے کہا کہ انہیں زندہ نہ سہی، کم از کم میت واپس دی جائے تاکہ یہاں تدفین کا انتظام کیا جا سکے۔ اہل خانہ کے مطابق دونوں افسران ذیابیطس کے مریض تھے اور قید کے دوران انہیں مناسب ادویات نہیں مل سکیں۔
واپسی میں مشکلات
دفتر خارجہ کے مطابق زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ جبوتی میں پاکستانی سفارتخانے کے حکام بندر بیلہ روانہ ہو رہے ہیں۔
انصار برنی ٹرسٹ کے مطابق واپسی میں ایک رکاوٹ یہ بھی ہے کہ پاکستان پنٹ لینڈ کو تسلیم نہیں کرتا جس کے باعث رابطوں میں خلل پڑ رہا ہے۔ ٹرسٹ کی نائب صدر شاہین برنی نے بتایا کہ زخمیوں اور میتوں کو لے جانے والا جہاز بندر بیلہ پہنچ چکا ہے جہاں زخمیوں کا علاج جاری ہے اور میتیں کولڈ اسٹوریج میں رکھی گئی ہیں۔
ویب ڈیسک

