کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں بیت المکرم مسجد کے قریب زیر تعمیر پل کا ایک حصہ گرنے سے ڈیوٹی پر موجود سیکیورٹی گارڈ جاں بحق ہو گیا۔ ریسکیو 1122 کے حکام کے مطابق حادثہ جمعرات کو پیش آیا، جب گارڈ ملبے تلے دب گیا۔
ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور لاش نکال کر ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کر دی۔ حکام کے مطابق جاں بحق گارڈ کی شناخت فوری طور پر نہیں ہو سکی۔ ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور ملبے تلے کوئی اور شخص دبا ہوا نہیں ملا۔ گرا ہوا ڈھانچہ کراچی کے ریڈ لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کا حصہ تھا۔ حادثے کی وجہ تاحال سرکاری طور پر نہیں بتائی گئی۔
ٹریفک متاثر، سڑک عارضی بند
حادثے کے بعد علاقے میں ٹریفک متاثر ہوئی۔ ملبہ ہٹانے اور مرمتی کام کے دوران سِوک سینٹر سے نیپا کی جانب جانے والی سڑک عارضی طور پر بند کر دی گئی۔
تاخیر کا شکار منصوبہ
اس حادثے نے ایک بار پھر ریڈ لائن منصوبے کی جانب توجہ مبذول کرا دی ہے جو برسوں سے تاخیر کا شکار ہے۔ 2022 میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ 30 ماہ میں مکمل ہونا تھا اور جون 2024 تک تیار ہونا چاہیے تھا، مگر بار بار کی رکاوٹوں نے اسے مقررہ مدت سے کہیں آگے دھکیل دیا ہے۔
فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے اپریل میں یونیورسٹی روڈ کے ساتھ لاٹ ٹو پر کام دوبارہ شروع کیا تھا، اس سے قبل مسلسل تاخیر اور ناقص کارکردگی پر پچھلے ٹھیکیدار کا معاہدہ ختم کر دیا گیا تھا۔ موسمیات سے نمائش تک پھیلا لاٹ ٹو سب سے زیادہ مسائل والا حصہ رہا ہے، جہاں گزشتہ برس ٹھیکیدار اور حکام کے درمیان مالی تنازعات پر کام طویل عرصے معطل رہا اور ادائیگیوں کی منظوری کے لیے عدالت کا سہارا لینا پڑا۔
ایشیائی ترقیاتی بینک، جو اس منصوبے میں شریک ہے، جیو نیوز کے مطابق کام کی رفتار اور معیار کے ساتھ صحت، حفاظت اور ماحولیاتی ضوابط پر بھی تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔
پہلے بھی حفاظتی سوالات اٹھ چکے
یہ منصوبے سے جڑا پہلا حفاظتی تنازع نہیں۔ ایک شہری نے ملیر کی عدالت سے رجوع کر کے اپنے والد شاہد کی جنوری میں سڑک حادثے میں موت پر 17 کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے، جس کا تعلق مبینہ طور پر ریڈ لائن کی تعمیر سے ہے۔ درخواست گزار کے وکیل کے مطابق شاہد کی گاڑی رات کے وقت یونیورسٹی روڈ پر لگے کنکریٹ بیریئر سے ٹکرائی تھی جس پر نہ عکاس نشانات تھے، نہ وارننگ ٹیپ اور نہ مناسب سائن بورڈ۔ درخواست میں الزام ہے کہ منصوبے کے حکام اور ٹھیکیدار سڑک استعمال کرنے والوں کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کرنے میں ناکام رہے۔
منصوبہ دو حصوں میں تقسیم ہے: لاٹ ون ایئرپورٹ سگنل سے موسمیات تک اور لاٹ ٹو موسمیات سے نمائش تک ہے۔ ریڈ لائن منصوبے کے تحت ملیر ہالٹ سے نمائش تک یونیورسٹی روڈ کے راستے تقریباً 27 کلومیٹر طویل بس راہداری تعمیر کی جا رہی ہے۔

