اسلام آباد: گوگل نے جمعرات کو اپنا اب تک کا طاقتور ترین مصنوعی ذہانت کا ماڈل "جیمنائی 4 آرگن” متعارف کرا دیا، تاہم حفاظتی خدشات کے باعث اسے عام صارفین کی دسترس سے دور رکھا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق ابتدائی رسائی صرف فیئر ونڈ پروگرام کے تحت چند قابل اعتماد سائبر سیکیورٹی ماہرین کو دی جائے گی۔
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل طویل اور پیچیدہ کاموں میں گہری استدلال کی صلاحیت رکھتا ہے، اور سافٹ ویئر انجینئرنگ، قانونی و مالیاتی امور اور سائبر دفاع میں نمایاں کارکردگی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
رسائی محدود کیوں رکھی گئی؟
گوگل کے مطابق آرگن کی صلاحیتیں اس قدر حساس ہیں کہ اسے کھلی رسائی کے ساتھ جاری نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ماڈل خاص طور پر سافٹ ویئر کی سنگین کمزوریوں کی نشاندہی، تصدیق اور ان کے تدارک کے لیے تربیت یافتہ ہے — ایسی مہارت جو محافظوں کے ساتھ ساتھ مجرموں کے ہاتھ بھی لگ سکتی ہے۔
گوگل ڈیپ مائنڈ کے سینئر نائب صدر اور چیف اے آئی آرکیٹیکٹ کورے کووکو اوغلو نے اعلان میں لکھا کہ "اس سطح کی جدید صلاحیتوں کو محفوظ طریقے سے جاری کرنے کے لیے مرحلہ وار رویہ ضروری ہے۔”
گوگل امریکی حکومت کے رضاکارانہ عمل میں شریک ہے جس کے تحت ماڈل جاری ہونے سے پہلے رسائی دی جاتی ہے، اور کمپنی ابتدائی صارفین کی آراء لے کر حفاظتی انتظامات پر کام کرے گی۔ وسیع تر دستیابی کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی، صرف اتنا کہا گیا ہے کہ ڈویلپرز، اداروں اور صارفین کو جلد از جلد رسائی ملے گی۔
یہ احتیاط وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک ملاقات کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گوگل کے سی ای او سندر پچائی اور اینتھروپک کے داریو امودی سمیت ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کی میزبانی کی۔ اجلاس میں ایک رضاکارانہ معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے تحت کمپنیاں اپنے اے آئی نظاموں کی خود نگرانی اور وسیع اجرا سے پہلے خطرات ظاہر کرنے کی پابند ہوں گی۔
آرگن کیا کر سکتا ہے؟
یہ ماڈل مختصر جوابات کے بجائے کئی مراحل پر محیط استدلال کے حامل کاموں کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کی آؤٹ پٹ حد 10 لاکھ ٹوکنز تک بڑھا دی گئی ہے، جو پہلے جیمنائی ماڈلوں میں 64 ہزار تھی — یوں یہ ایک ہی سیشن میں طویل کوڈنگ منصوبے اور کاروباری ورک فلو مکمل کر سکتا ہے۔
گوگل نے عملی مثالیں بھی پیش کیں۔ ہزاروں ملازمین پہلے ہی آرگن کو ڈیبگنگ اور کوڈ کی منتقلی کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جن میں ایک ایسا منصوبہ بھی شامل ہے جس کے تحت فوشیا زرکون کرنل کی 8 لاکھ سے زائد لائنیں سی اور سی پلس پلس سے میموری محفوظ رسٹ زبان میں منتقل کی گئیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ آرگن نے کوانٹم کمپیوٹنگ محققین کو ایک الگورتھم کی کارکردگی 40 فیصد بہتر بنانے میں مدد دی اور ڈیٹا سینٹرز کے تجزیے سے 300 ٹیرابائٹ سے زائد میموری آزاد کرائی۔
سیکیورٹی کے میدان میں سائبر سیکیورٹی کمپنی وز ابتدائی صارفین میں شامل ہے۔ گوگل کے مطابق وز نے آرگن کو اپنے "اسکین فار گڈ” منصوبے میں اہم انفراسٹرکچر کی خطرناک خامیوں کی تلاش اور تدارک کے لیے استعمال کیا، جن میں اسپتالوں کے استعمال کردہ سافٹ ویئر کی ایک سنگین کمزوری بھی شامل تھی۔
قیمت اور آزاد جائزے
گوگل نے ابتدائی اے پی آئی قیمت 2 ڈالر فی ملین ان پٹ ٹوکنز اور 10 ڈالر فی ملین آؤٹ پٹ ٹوکنز مقرر کی ہے، جبکہ کیش شدہ ان پٹ ٹوکنز پر 95 فیصد رعایت دی جائے گی۔
آزاد جائزہ کار ویلز انڈیکس نے جیمنائی 4 آرگن کو درستگی میں 68.90 فیصد نمبر دیے، جو گوگل کے اعلان کے مطابق اینتھروپک کے کلاڈ سونٹ 5.5، کلاڈ اوپس 5.5 اور کلاڈ فیبل 5.1 سے آگے ہے۔
ویب ڈیسک

