یمن کے حوثیوں سے لڑنے والے سعودی قیادت والے اتحاد نے جمعرات کو کہا ہے کہ حوثیوں نے اس ہفتے کے شروع میں مدینہ منورہ کے ایک پاور اسٹیشن پر ڈرون حملہ کیا، جس سے اسلام کے مقدس ترین مقامات کے قریب حملوں کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
اتحاد کے مطابق منگل کو ہونے والے اس حملے میں ایک ٹرانسفارمر ناکارہ ہو گیا، تاہم بجلی کا مجموعی نظام متاثر نہیں ہوا۔ ڈان کے مطابق حوثیوں کے ایک فوجی ذریعے نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
اتحاد کا مؤقف
اتحاد کا کہنا ہے کہ ڈرون کے ملبے کی جانچ اور تحقیقات سے حوثیوں کے اس حملے کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس اسٹیشن سے مسجد نبوی کو بجلی فراہم ہوتی ہے، جو اسلام کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ اتحاد نے اس کارروائی کو حرمین شریفین کو نشانہ بنانے کی حوثیوں کی مبینہ بار بار کی کوششوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ اس کا مقصد دنیا بھر کے مسلمانوں کو "اشتعال” دلانا ہے۔ اتحاد نے مقدس مقامات اور زائرین کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
مقدس شہروں پر خدشات کیوں بڑھے
یہ الزام اس لیے حساس ہے کہ مدینہ منورہ، جہاں مسجد نبوی واقع ہے، اسلام کا دوسرا مقدس ترین شہر ہے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان، جن میں بڑی تعداد میں پاکستانی زائرین بھی شامل ہیں، حج اور عمرے کے لیے وہاں جاتے ہیں۔
اس واقعے سے دو ہفتے قبل بھی ایک تشویشناک صورتحال پیدا ہوئی تھی، جب سعودی عرب نے کہا تھا کہ اس نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں حوثیوں کا ایک ڈرون محدود فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے مار گرایا۔ اتحاد نے اسے 2017 کے بعد مکہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش قرار دیا تھا۔ حوثیوں نے مکہ یا کسی اور اسلامی مقدس مقام کو نشانہ بنانے کی تردید کی تھی۔
پاکستان کے لیے، جو ہر سال لاکھوں زائرین سعودی عرب بھیجتا ہے، مقدس شہروں کے قریب کسی بھی خطرے کو گہری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ پاکستانی حکام حرمین شریفین کی سلامتی کو معمول کے مطابق قومی تشویش کا معاملہ قرار دیتے ہیں۔
کمزرور پڑتی جنگ بندی
یہ کشیدگی 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سعودی عرب اور ایران کے حامی حوثیوں کے درمیان سنگین ترین لڑائی ہے۔ اس برس حوثیوں کی جانب سے جولائی میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان اور سعودی علاقے اور جہاز رانی پر حملوں کے بعد جھڑپیں دوبارہ شروع ہوئیں۔ حوثی افواج نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر بھی بڑے علاقائی فوائد حاصل کیے ہیں۔ سعودی عرب نے یمن میں فضائی حملوں اور حوثیوں کے خلاف لڑنے والی حکومتی افواج کی حمایت سے جواب دیا ہے۔ اب صورتحال اس پر منحصر ہے کہ فریقین لڑائی کو محدود کرتے ہیں یا اسے مزید پھیلنے دیتے ہیں۔

