ہمالیہ سے برفیلے پانی اور ملبے کی دیوار گرے ایک ماہ سے زائد ہو گیا مگر نیپال کو اب دوسری آفت کا سامنا ہے — ہلاک شدگان کی شناخت۔ کھٹمنڈو کی فرانزک لیبارٹریوں میں 3,685 ڈی این اے نمونوں کی جانچ جاری ہے اور ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ لاشوں کو غمزدہ خاندانوں سے ملانے میں ہفتے لگ سکتے ہیں۔
26 اگست کو نیپال-چین سرحد پر گلیشیئر اور چٹان گرنے سے آنے والے سیلاب نے نوواکوٹ ضلع میں دریائے ترشولی میں سونامی جیسی لہر دوڑا دی تھی۔ نیپال میں 1,454 لاشیں نکالی گئیں جن میں سے تقریباً ایک تہائی صرف جزوی باقیات ہیں، مگر اب تک صرف 112 کی شناخت ہو کر اہل خانہ کے حوالے کی گئی ہیں۔ مزید 5,285 افراد لاپتہ ہیں جن میں سیکڑوں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق سرحد پار 43 ہلاک اور 519 لاپتہ ہیں۔
ڈی این اے کا چیلنج
کھٹمنڈو کی دو فرانزک لیبارٹریاں اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بوجھ تلے ہیں۔ نیشنل فرانزک سائنس لیبارٹری کے چیف سائنسی افسر مکل پردھان کے مطابق لیبارٹری عام طور پر پورے سال میں 1,000 سے 1,500 نمونوں کا تجزیہ کرتی ہے۔ "اب ہم ہزاروں نمونوں پر کام کر رہے ہیں،” انہوں نے کہا۔ خون کے نمونے آسان ہیں جبکہ دانتوں اور ہڈیوں کے نمونوں میں دن لگ سکتے ہیں۔
لیبارٹری کے حیاتیات شعبے کے سربراہ نیرجن تھاپا نے کہا: "صرف ڈی این اے پروفائل نکالنا شناخت کے لیے کافی نہیں۔ ہمیں ان کے رشتہ داروں سے ڈی این اے پروفائل نکال کر موازنہ کرنا ہوتا ہے۔” لاشیں بہہ کر دور تک چلی گئیں۔ نیپال 1,200 سے زائد لاشیں نمبر لگا کر دفن کر چکا ہے تاکہ ڈی این اے ملنے پر نکالی جا سکیں۔ پولیس ترجمان ابھی نارائن کافلے نے کہا کہ ٹیمیں تیزی سے کام کر رہی ہیں۔
بین الاقوامی مدد
بھارت، چین اور جنوبی کوریا امدادی ٹیمیں بھیج چکے ہیں جبکہ امریکہ اور سنگاپور کے فنگر پرنٹ ماہرین شناخت میں مدد کر رہے ہیں۔
ویب ڈیسک

