کراچی پورٹ پر شپنگ کنٹینرز کے انبار لگ گئے ہیں کیونکہ ٹرک ڈرائیور اسلام آباد جانے والی سڑکیں بلاک کرنے کے لیے گاڑیوں کی ضبطی کے خوف سے شمال کا رخ کرنے سے گریزاں ہیں۔ ڈرائیوروں کو ڈر ہے کہ ان کی گاڑیاں ضبط کر کے کنٹینرز پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے مارچ سے قبل اسلام آباد کی ناکہ بندی کے لیے استعمال کر لیے جائیں گے۔
ریت سے بھرے اور ایک دوسرے سے ویلڈ کیے گئے یہ فولادی کنٹینرز ہفتوں سے اسلام آباد جانے والی سڑکوں پر لگے ہیں تاکہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کے حامیوں کو شہر سے باہر رکھا جا سکے۔ یہ مارچ 27 ستمبر سے ملتوی ہو کر اب 4 اکتوبر کو خان کی رہائی کے مطالبے پر نکالا جا رہا ہے۔
35 سالہ ڈرائیور جاوید الرحمان نے کہا: "اس وقت پنجاب کی طرف جانا خودکشی کے مترادف ہے۔ پولیس گاڑیاں ضبط کر لیتی ہے اور کنٹینرز چھین لیتی ہے اور ہم پریشان رہ جاتے ہیں۔”
ٹرانسپورٹرز کو کروڑوں کا نقصان
کراچی گڈز کیریئر ایسوسی ایشن کے صدر رانا محمد اسلم کے مطابق حکام نے مارچ کی اصل تاریخ سے ہفتوں قبل 5 ستمبر کے آس پاس گاڑیاں روکنا شروع کر دی تھیں۔ ان کا کہنا تھا: "احتجاج روکنے کا یہ طریقہ نہیں۔” ٹرانسپورٹرز کے مطابق ستمبر میں پولیس نے 2,000 سے زائد گاڑیاں مانگ لیں جن میں سے کئی سامان سمیت تھیں اور انہیں بغیر معاوضے کے دنوں تک روکے رکھا گیا۔
اسلم کے مطابق ایک ضبط شدہ کنٹینر پر روزانہ 30 سے 40 ہزار روپے ڈیمرج چارجز لگتے ہیں۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ستمبر میں صارف قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 10.26 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ٹرانسپورٹ پرائس انڈیکس 27.43 فیصد بڑھا۔
راستے متاثر
شمال جانے سے ٹرکروں کی ہچکچاہٹ سے ملک کے اہم تجارتی گیٹ وے پر کنٹینرز جمع ہو رہے ہیں۔ اسلام آباد، راولپنڈی اور پشاور جانے والے راستے متاثر ہو رہے ہیں۔ اسلم نے خبردار کیا کہ اگر شکایات دور نہ ہوئیں تو ٹرانسپورٹرز خود احتجاج کر سکتے ہیں۔
ویب ڈیسک

