اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کراچی میں ون ڈور سہولت مرکز کی تعمیر کا کام تیز کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ ہدایت انہوں نے اسلام آباد میں ہفتہ وار اجلاس میں وزارت کے جاری منصوبوں اور اصلاحاتی ایجنڈے کا جائزہ لیتے ہوئے دی۔
یہ مجوزہ مرکز کراچی بندرگاہ کے لیے حکومتی سہولت مہم کا مرکزی ستون ہے۔ بندرگاہ سے منسلک کاروبار اس مرکز کے ذریعے دستاویزات کی کلیئرنس، فیسوں کی ادائیگی اور ریگولیٹری اداروں سے رابطہ ایک ہی کھڑکی کے ذریعے کر سکیں گے، بجائے اس کے کہ مختلف محکموں کے چکر لگاتے پھریں۔
کراچی بندرگاہ کے لیے سہولت کیوں اہم ہے؟
کراچی کی دو بندرگاہیں پاکستان کی سمندری تجارت کا بڑا حصہ سنبھالتی ہیں، اور ان سے واسطہ رکھنے والے کاروباری حلقے بکھری ہوئی طریقہ کار کی طویل عرصے سے شکایت کرتے آئے ہیں۔ درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان بندرگاہ حکام، کسٹمز، شپنگ لائنز، ٹرمینل آپریٹرز اور فشریز کے ریگولیٹری اداروں سے الگ الگ رابطہ کرتے ہیں، اور ہر مرحلے میں وقت اور رقم ضائع ہوتی ہے۔
وزیر نے کہا کہ یہ ون ڈور سہولت اسی مشکل کو ختم کرے گی۔ تجارتی سہولت کے حوالے سے وزیراعظم کے وژن کے مطابق بندرگاہی تجارت سے منسلک ہر سروس ایک ہی چھت تلے میسر آنی چاہیے۔
انہوں نے حکام کو مرکز کے قیام میں تیزی لانے اور وزارت کے تمام منصوبوں پر پیش رفت برقرار رکھنے کی ہدایت کی، خاص طور پر ان اقدامات پر زور دیتے ہوئے جن سے بحری شعبے میں کاروبار کی آسانی میں بہتری آئے۔
جہازوں کی رجسٹریشن اور بلیو اکانومی بھی ایجنڈے میں
اجلاس میں جہازوں اور ماہی گیر کشتیوں کی رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے کی تجاویز کے علاوہ بلیو اکانومی اور فشریز کے برآمد کنندگان کے لیے ٹیکس مراعات کے اقدامات پر بھی غور ہوا۔
وزیر کو قومی بحری پالیسی اور قومی فشریز و آبی زراعت پالیسی کی تشکیل میں پیش رفت سے آگاہ کیا گیا، جو آنے والے برسوں میں اس شعبے کی سمت متعین کریں گی۔ شپنگ اور ٹرانس شپمنٹ پالیسی کے ساتھ پورٹ قاسم کے ترقیاتی منصوبوں پر بھی بات ہوئی، جن میں سی ٹو اسٹیل پراجیکٹ اور مجوزہ انٹیگریٹڈ میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکس شامل ہیں۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ کے منوڑہ ورکشاپ کی بحالی اور گوادر بندرگاہ کے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں میری ٹائم ایجوکیشنل اینڈومنٹ فنڈ پر بھی غور ہوا، جس کا مقصد شعبے کے لیے بحری تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی میں معاونت ہے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ کام کی رفتار برقرار رکھیں اور مقررہ مدت کے ساتھ رپورٹ پیش کریں۔ ون ڈور مرکز وزارت کی اصلاحاتی مہم کا سب سے نمایاں امتحان ہوگا، کیونکہ یہی وہ سہولت ہے جس سے تاجر سب سے پہلے واسطہ رکھیں گے۔
ویب ڈیسک

