اسلام آباد (اسٹاف رپورٹ): دودھ ہماری روزمرہ خوراک کا بھی لازمی حصہ ہے اور اس کے بہت سے فوائد اور استعمال کے طریقے ہیں۔ دودھ غذائیت کا خزانہ ہے؛ یہ کیلشیم، وٹامن ڈی، بی 12، رائبوفلیون، پوٹاشیم، فاسفورس، سیلینیم اور صحت مند چکنائی کا بہترین ذریعہ ہے۔
بھارتی ڈاکٹر ارون کمار کے مطابق گائے اور بھینس کا دودھ عام طور پر استعمال ہوتا ہے۔ کیلوریز کے لحاظ سے 100 گرام گائے کے دودھ میں 67 کیلوریز ہوتی ہیں، جبکہ بھینس کے دودھ میں 117 کیلوریز ہوتی ہیں؛ اسی لیے بھینس کے دودھ کا باقاعدہ استعمال وزن بڑھا سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گائے کے دودھ میں 4.1 فیصد چکنائی ہوتی ہے، جبکہ بھینس کے دودھ میں 6.5 فیصد چکنائی ہوتی ہے، مگر گائے کا دودھ زیادہ غذائیت والا ہے۔ گائے اور بھینس کے دودھ کا ذائقہ تقریباً ایک جیسا ہے، مگر ان کے رنگ میں معمولی فرق ہے؛ گائے کا دودھ کریمی جبکہ بھینس کا دودھ سفید ہوتا ہے۔
گائے کے دودھ میں بھینس کے دودھ سے کم چکنائی ہوتی ہے اور یہ ہضم کرنا آسان ہے۔ لیکٹوز ہضم کرنے میں لیکٹیز کی اہمیت کو سمجھنا نظام ہضم کی صحت کے لیے اہم ہے۔ نوٹ: مذکورہ مواد عمومی ماہر رائے پر مبنی ہے؛ کسی بھی نسخے یا دوا کے لیے ہمیشہ مستند صحت پیشہ ور سے مشورہ کریں۔

