امریکی فوج نے سعودی عرب اور قطر میں توانائی کے اہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے پیٹریاٹ میزائل کی دو مزید بیٹریاں خلیج میں تعینات کر دی ہیں۔ یہ خبر امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے دو امریکی حکام اور ایک علاقائی ذریعے کے حوالے سے دی۔
رپورٹ کے مطابق ایک بیٹری گزشتہ ماہ سعودی عرب بھیجی گئی تاکہ تیل کی ایک اہم تنصیب کی حفاظت کی جا سکے، جبکہ دوسری قطر میں قدرتی گیس کی تنصیب کے دفاع کے لیے تعینات کی گئی۔ یہ تعیناتی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کے نئے دور کا خدشہ بڑھ رہا ہے، اور خلیجی اتحادیوں کو یقین دہانی کرانا مقصود ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا حکم دیتے ہیں تو ان کے اثاثے محفوظ رہیں گے۔
ایران پر فیصلے کی گھڑی، امریکی بحری بیڑے رواں دواں
یہ رپورٹ اس کے ایک دن بعد سامنے آئی جب ٹرمپ نے تہران کے خلاف لہجہ مزید سخت کیا۔ امریکی صدر نے جمعرات کو کہا تھا کہ اب انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ یا تو ایران معاہدے پر دستخط کرے یا اس کا وجود ہی ختم ہو جائے گا۔
امریکی فوجی نقل و حرکت تیاریوں کی سنگینی ظاہر کرتی ہے۔ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ اسٹرائیک گروپ اتوار کو سان ڈیاگو سے روانہ ہوا اور نومبر کے وسط تک خطے میں پہنچنے کی توقع ہے۔ میکین آئی لینڈ ایمفیبیئس ریڈی گروپ پیر کو روانہ ہوا اور نومبر کے آخر تک پہنچے گا۔
ایکسیوس کے مطابق سعودی عرب اور قطر نے اگست میں ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے کے خلاف اپیل کی تھی، جس کے بعد ٹرمپ نے فوجی کارروائی کے بجائے معاشی دباؤ کو ترجیح دی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی نئی بڑی کارروائی کے لیے واشنگٹن کو سعودی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت درکار ہوگی۔ سینٹکام کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے ان تعیناتیوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔
پاکستان کے لیے اس کے مضمرات
پیٹریاٹ کی یہ تعیناتی امریکہ کی اس وسیع پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت خلیجی توانائی اثاثوں کو تحفظ دیا جا رہا ہے جبکہ ایران کے حوالے سے تمام آپشنز کھلے رکھے گئے ہیں۔ ماضی کے حملوں کے بعد سعودی تیل تنصیبات اور قطری گیس ٹرمینلز کے گرد فضائی دفاع ترجیح بن چکا ہے۔
پاکستان کے لیے، جو اپنی توانائی درآمدات اور خطے میں بڑی تعداد میں مقیم پاکستانی ورکرز کی وجہ سے خلیج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کسی بھی کشیدگی کے براہ راست نتائج ہوں گے — تیل کی قیمتوں اور ترسیلات زر دونوں پر اثر پڑے گا۔ آنے والے ہفتے، جب امریکی بحری گروپ خطے میں پہنچیں گے، واضح کریں گے کہ یہ فوجی جماؤ معاہدے کے لیے دباؤ ہے یا حملوں کا پیش خیمہ۔
امریکہ نے پیٹریاٹ بیٹریاں کہاں تعینات کیں؟
ایکسیوس کے مطابق ایک بیٹری سعودی عرب میں تیل کی ایک اہم تنصیب اور دوسری قطر میں قدرتی گیس کی تنصیب کے تحفظ کے لیے بھیجی گئی۔
ٹرمپ نے ایران کے بارے میں کیا کہا؟
جمعرات کو ٹرمپ نے کہا کہ اب انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ یا تو ایران معاہدے پر دستخط کرے یا اس کا وجود ہی ختم ہو جائے گا۔
کون سے امریکی بحری گروپ خطے کی طرف رواں ہیں؟
یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ اسٹرائیک گروپ نومبر کے وسط تک اور میکین آئی لینڈ ایمفیبیئس ریڈی گروپ نومبر کے آخر تک خطے میں پہنچنے کی توقع ہے۔

