ویب ڈیسک
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بدھ کو پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ماہرین نے اس جوڑے کی دوبارہ گرفتاری کو "گہری تشویش ناک” قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف مقدمات ختم کرنے پر زور دیا۔
ماہرین نے کیا کہا
ماہرین کا کہنا تھا کہ اس جوڑے کو فوری رہا کیا جائے اور ان کے خلاف "بے بنیاد فوجداری اور دہشت گردی کے الزامات” ختم کیے جائیں۔ ان کے بیان میں دوبارہ گرفتاری کو اظہار رائے کی سزا دینے کی کوشش قرار دیا گیا۔
"ضمانت ملنے کے فوراً بعد پرانا مقدمہ سامنے لانا فوجداری نظام انصاف کو اظہار رائے اور انسانی حقوق کی سرگرمی کی سزا کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے،” بیان میں کہا گیا۔
ماہرین نے بتایا کہ وہ جنوری سے مزاری اور چٹھہ کے خلاف کارروائی کی نگرانی کر رہے ہیں جب اس جوڑے کو پہلی بار گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے نتیجے کے مطابق یہ کارروائی "ان وکلا کو سزا دینے اور ڈرانے” کے لیے ہے اور قانونی برادری کے لیے "خوفناک پیغام” ہے۔
دہشت گردی کے الزامات کی مذمت
بیان میں وکلا کے انسانی حقوق کے فروغ، تحفظ اور دفاع کے حق میں رکاوٹ کے لیے "مبہم اور وسیع” انسداد دہشت گردی کی شقوں کے استعمال کی مذمت کی گئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بین الاقوامی معیارات حکومتوں سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ وکلا کو دھمکیوں، ہراسانی اور ناجائز مداخلت سے بچائیں اور تسلیم شدہ پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی پر ان کے خلاف مقدمہ نہ چلائیں۔ "یہی معیارات وکلا کے اظہار رائے کی آزادی کا بھی تحفظ کرتے ہیں،” بیان میں کہا گیا۔
ماہرین کے مطابق اس جوڑے کو "اپنی پسند کے وکیل، اپنے اہل خانہ اور مناسب و ضروری طبی سہولت تک پہلے ہی مناسب رسائی حاصل ہونی چاہیے تھی”۔
مقدمے کا پس منظر
24 جنوری کو اسلام آباد کی سیشن عدالت نے سوشل میڈیا پوسٹس سے جڑے ایک مقدمے میں پیکا کے تحت متعدد الزامات پر مزاری اور چٹھہ کو مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کی وکلا تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے شدید مذمت کی تھی۔
17 ستمبر کو سپریم کورٹ نے اس جوڑے کی سزائیں معطل کر کے انہیں دو دو لاکھ روپے کے مچلکوں پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ چند گھنٹوں بعد انہیں ایک علیحدہ پرانے مقدمے میں دہشت گردی سے متعلق الزامات پر دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔

