اسلام آباد: جمعرات کی شام تہران کے پاسداران ضلع میں پاکستان کے سفارت خانے اور سفیر کی رہائش گاہ کے قریب زوردار دھماکے ہوئے۔ دھماکے رات تقریباً 8 بجے ہوئے۔ ذرائع نے تصدیق کی کہ تمام پاکستانی سفارت کار محفوظ رہے، تاہم واقعے نے انہیں ہلا کر رکھ دیا۔
رپورٹس کے مطابق پاکستانی سفارت خانے کے سامنے ایرانی فوجی اڈہ نشانہ ہو سکتا تھا۔ ایک سینئر سفارت کار نے بتایا کہ دھماکے بہت زوردار تھے؛ عمارتیں سلامت رہیں، کوئی کھڑکی نہیں ٹوٹی اور کوئی ساختی نقصان نہیں ہوا، مگر شہر میں جاری فضائی حملوں کے باعث خوف پیدا ہوا۔
جنگ بندی کی سفارتی کوششیں
دوسری جانب پاکستان نے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اسلام آباد ترکیہ اور مصر کے ساتھ مل کر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے کام کر رہا ہے۔ تہران کو مسلسل 28 روز سے فضائی بمباری کا سامنا ہے۔
یہ وسیع تنازع 28 فروری کو شروع ہوا تھا، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے۔ ایرانی حکام کے مطابق کم از کم 1,937 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ جواب میں ایران نے اسرائیل پر حملے کیے جن میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
اب تک پاکستانی مشن کے قریب کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں، اور سفارت خانے کے امور جاری ہیں۔ حکام صورتحال کی قریبی نگرانی کر رہے ہیں۔

