اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے مائیکروفنانس ہاؤسنگ قرضوں کی زیادہ سے زیادہ حد بڑھا کر 50 لاکھ روپے کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد کم آمدنی والے خاندانوں کو گھر کی تعمیر، مرمت اور توسیع کے لیے زیادہ مالی سہولت فراہم کرنا ہے۔
تجویز سے کس کو فائدہ ہوگا؟
مائیکروفنانس ہاؤسنگ قرضے ان افراد کے لیے ہیں جو روایتی بینکوں سے قرض نہیں لے سکتے، جن میں چھوٹے کاروباری، خود روزگار افراد اور محدود آمدنی والے شہری شامل ہیں۔ تعمیراتی میٹریل، زمین اور مزدوری کی بڑھتی قیمتوں نے گھر بنانا مشکل کر دیا ہے۔ حد بڑھنے سے ہزاروں خاندانوں کو اپنے تعمیراتی منصوبے مکمل کرنے میں مدد ملے گی۔
مالی شمولیت اور معیشت پر اثر
ایس ای سی پی کے مطابق یہ اقدام مالی شمولیت کو بہتر بنانے اور مائیکروفنانس سیکٹر کو مضبوط کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ زیادہ ہاؤسنگ فنانس سے تعمیراتی صنعت کو بھی فائدہ ہوگا، جو سیمنٹ، اسٹیل، ٹرانسپورٹ اور لاکھوں ملازمتوں سے جڑی ہے۔
ذمہ دارانہ قرض ضروری
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑی سہولت کے ساتھ ذمہ دارانہ قرض بھی ضروری ہے۔ اداروں کو قرض دینے سے پہلے آمدنی، ادائیگی کی استطاعت اور مالی پس منظر جانچنا چاہیے، جبکہ قرض لینے والوں کو شرائط اور ماہانہ اقساط سمجھنی چاہئیں۔ یہ تجویز ابھی حتمی منظوری کی منتظر ہے۔

