21 سالہ جاپانی جوڈوکا رن میڈا کا ایشین گیمز میں گولڈ تک کا سفر غیر معمولی واقعے سے عبارت رہا۔ ناگویا میں جمعرات کو کوارٹر فائنل میں چینی حریف نے ان کے بازو پر کاٹ لیا، حریف نااہل قرار پائی اور میڈا نے سنبھل کر خواتین کے 70 کلو گرام مقابلے کا طلائی تمغہ جیت لیا۔
وہ کاٹا جس نے ہال کو حیران کر دیا
آئیچی انٹرنیشنل ایرینا میں کوارٹر فائنل مقابلے میں ایک منٹ بارہ سیکنڈ پر تانگ جِنگ کو نااہل قرار دے کر میڈا کو فاتح قرار دیا گیا۔ دونوں زمین پر گتھم گتھا تھیں جب تانگ نے میڈا کی کلائی کے اوپر کاٹ لیا۔ میڈا نے اٹھ کر ریفری کو دانتوں کے واضح نشان دکھائے اور ججوں نے فوٹیج دیکھ کر چینی کھلاڑی کو نااہل قرار دیا۔
جاپان کی خواتین جوڈو کوچ ماکی سوکادا نے اسپورٹس ویب سائٹ دی ڈائجسٹ کو بتایا کہ اپنے طویل کیریئر میں انہوں نے ایسا پہلی بار دیکھا۔ "ایشین گیمز جیسے مقابلوں میں ماضی میں ایسے واقعات ہوئے کہ کسی کو چہرے پر مکا لگا یا آنکھ سوج گئی،” انہوں نے کہا۔ "افسوس کہ ہم نے سوچا نہ تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ حفاظتی ٹیپ کے باوجود کاٹنے کے نشان واضح تھے۔ "ایسا لگ رہا تھا کہ خون نکل آئے گا مگر جراثیم کشی کی نوبت نہیں آئی۔ پھر بھی دانتوں کے نشان واضح اور گہرے تھے۔”
تانگ نے فیصلے پر اعتراض ظاہر کیا مگر مقابلے کی جگہ چھوڑنے سے قبل میڈا سے ہاتھ ملایا۔ بعد میں انہوں نے انٹرویو سے انکار کیا اور ریپیشیج میں حصہ نہیں لیا حالانکہ کانسی کے مقابلے کا راستہ کھلا تھا۔ ان کی حریف انونگمبی ٹاکیلامبم واک اوور سے آگے بڑھ گئیں۔
تنازع سے گولڈ تک
میڈا نے واقعے کو جلد پیچھے چھوڑ دیا۔ انہوں نے سیمی فائنل میں شمالی کوریا کی من سیونگ ہی کو ہرایا اور فائنل میں قازقستان کی اظہر آسخت کو شکست دے کر 70 کلو گرام کا طلائی تمغہ حاصل کیا۔ میڈا نے کہا: "میں اس ٹورنامنٹ میں گولڈ جیتنے کے پختہ عزم کے ساتھ آئی تھی۔” تانگ کے لیے یہ بڑی ناکامی تھی — انہوں نے 2018 جکارتہ-پالمبانگ ایشین گیمز میں کانسی اور ہانگژو 2022 میں چاندی جیتی تھی۔
ویب ڈیسک

