لاہور: محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول نے ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت تقریباً 50 لاکھ شہری جائیدادوں پر صفائی فیس کی بلنگ شروع کر دی ہے۔ شہری علاقوں میں بلوں کی ترسیل 2 اکتوبر سے شروع ہوگی۔
جائیداد مالکان کو ایک سال کی صفائی فیس کے چھ ماہ کے بل ملیں گے جن کی ادائیگی بل موصول ہونے کے 60 روز کے اندر کرنا ہوگی۔ مقررہ مدت کے بعد ادائیگی جرمانے کے ساتھ قبول کی جائے گی۔
فیس کی شرحیں کیا ہیں
ماہانہ چارجز جائیداد کے حجم کے ساتھ بڑھتے ہیں۔ شہری رہائشی جائیدادوں کے لیے: 5 مرلہ تک 300 روپے، 5 سے 10 مرلہ 500 روپے، 10 سے 20 مرلہ 1000 روپے، 20 سے 40 مرلہ 2000 روپے اور 40 مرلہ سے زائد پر 5000 روپے ماہانہ۔ تجارتی یونٹس چھوٹے کاروبار کے لیے 500، درمیانے کے لیے 1000 اور بڑے اداروں کے لیے 3000 روپے ماہانہ ادا کریں گے۔
ایکسائز حکام کے مطابق ستھرا پنجاب اتھارٹی اور محکمے کے درمیان ڈیٹا انضمام مکمل ہو چکا ہے۔ بل شہری یونٹوں کے ریکارڈ سے چھاپے جائیں گے اور ہر ریجن میں متعلقہ حلقوں کے انسپکٹر جائیداد مالکان تک پہنچائیں گے۔
بلنگ اب کیوں شروع ہو رہی ہے
پنجاب حکومت کو توقع ہے کہ شہری جائیدادوں سے یہ فیس سالانہ تقریباً 40 ارب روپے لائے گی جس کی پروگرام کو اشد ضرورت ہے۔ اب تک وصولی انتہائی خراب رہی ہے: صرف لاہور میں جنوری سے اگست 2026 کے دوران تقریباً 51 لاکھ 90 ہزار بل مالیت تقریباً 13 ارب روپے جاری کیے گئے مگر صرف 2 لاکھ 75 ہزار ادا ہوئے اور محض 36 کروڑ روپے وصول ہو سکے۔
23 ستمبر کو دستخط شدہ سروس لیول معاہدے کے تحت محکمہ ایکسائز مالی سال 2026-27 میں پراپرٹی ٹیکس کے ساتھ صفائی فیس بھی وصول کرے گا۔ معاہدے پر ڈی جی ستھرا پنجاب عمر جاوید اور ڈی جی ایکسائز و ٹیکسیشن عمر شیر چٹھہ نے دستخط کیے۔ محکمہ گھر گھر سروے بھی کرے گا، صارفین کا ریکارڈ رکھے گا، شکایات نمٹائے گا اور حسابات کا تصفیہ کرے گا جس کے بدلے اسے وصولیوں پر ایک فیصد سروس چارج ملے گا۔
چھاؤنیوں، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹیز اور نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے علاقے اس فیس سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ ان کے اپنے کچرا انتظام کے نظام ہیں۔
نفاذ کے لیے خصوصی فورس
صوبہ ایلیٹ فورس کی طرز پر نادہندگان سے صفائی چارجز کی وصولی کے لیے ایک مخصوص نفاذی فورس بھی تیار کر رہا ہے۔ اس منصوبے میں 305 آسامیاں رکھی گئی ہیں جن میں گریڈ 5 کے 300 ایکسائز کانسٹیبل شامل ہیں جو بل تقسیم کریں گے، نادہندگان سے رابطہ کریں گے اور تمام 41 اضلاع کی تقریباً 47 لاکھ جائیدادوں سے واجبات وصول کریں گے۔ فیلڈ عملے کو نگرانی کے لیے 300 الیکٹرک موٹر سائیکلیں اور 5 گاڑیاں دی جائیں گی جن کی تخمینہ لاگت 11 کروڑ 30 لاکھ روپے ہے۔
ستھرا پنجاب دسمبر 2024 میں وزیر اعلیٰ مریم نواز کے فلیگ شپ صفائی منصوبے کے طور پر شروع ہوا تھا جس میں صوبے بھر میں کچرا اٹھانے کے نظام کی مکمل اصلاح کا وعدہ کیا گیا تھا۔ فیس شروع سے منصوبے کا حصہ تھی مگر مشینری، عملے اور ایندھن پر اخراجات کے مقابلے میں وصولی بہت پیچھے رہی۔ اب 50 لاکھ جائیدادوں کو بل اور نفاذی فورس کی آمد کے ساتھ حکومت یہ اشارہ دے رہی ہے کہ مفت کا دور ختم ہو گیا ہے۔

