ویب ڈیسک
پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے بدھ کو کرسچن میرج بل 2026 کی متفقہ منظوری دے دی جس کے تحت مسیحی شادیوں کی نادرا اور متعلقہ یونین کونسل میں لازمی رجسٹریشن ہوگی جبکہ دلہا اور دلہن دونوں کے لیے شادی کی کم از کم قانونی عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔
کمیٹی نے کیا منظور کیا
انسانی حقوق اور اقلیتی امور کی قائمہ کمیٹی نے، جس کی صدارت رکن اسمبلی راحیلہ خادم حسین کر رہی تھیں، بدھ کو اس مسودہ قانون کی منظوری دی۔ یہ بل اپریل میں کمیٹی کو پیش کیا گیا تھا۔ بل کے محرک فلبوس کرسٹوفر نے مسودہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ قانون کس قدر پرانا ہو چکا ہے۔
1872 کا ایکٹ مردوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 16 اور خواتین کے لیے صرف 13 سال مقرر کرتا ہے۔ کرسٹوفر کے مطابق دونوں کے لیے حد 18 سال کرنا کم عمری کی شادیوں کے خلاف تحفظ مضبوط کرے گا اور حقیقی آزاد رضامندی یقینی بنائے گا۔
بل کی اہم شقیں
مسودہ قانون کے تحت شادی کے دونوں فریق کا تعلق مسیحی مذہب سے ہونا لازم ہے۔ پنجاب حکومت سے رجسٹرڈ گرجا گھروں کے باقاعدہ مقرر کردہ اور مذہبی طور پر اہل پادریوں کے ساتھ ساتھ حکومت کے مقرر کردہ نکاح رجسٹرار مسیحی رسوم کے مطابق شادیاں پڑھانے کے مجاز ہوں گے۔
بل میں طریقہ کار کی ضمانتیں بھی شامل ہیں: پیشگی تحریری نوٹس، شادی کا عوامی اعلان اور تقریب میں کم از کم دو گواہوں کی موجودگی۔ اس میں شادیوں کے مخصوص اوقات یا ایام کی پرانی پابندیاں بھی ختم کر دی گئی ہیں اور معیاری رجسٹروں اور مقررہ سرکاری فارموں کے ذریعے تفصیلی شادی ریکارڈ رکھنا لازم قرار دیا گیا ہے۔
ایک بڑی تبدیلی متعلقہ یونین کونسل اور نادرا دونوں میں لازمی رجسٹریشن ہے جو 1872 کے نظام میں سرے سے موجود نہیں تھی۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے مسیحی خاندانوں کو وراثت، ویزوں اور دیگر سرکاری معاملات کے لیے مضبوط قانونی دستاویزات ملیں گی۔
اب آگے کیا ہوگا
کرسٹوفر نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ بل کا مقصد مسیحی برادری کے عائلی قانون کو یکجا، واضح اور جدید بنانا ہے جبکہ انفرادی حقوق اور رضامندی کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔ کمیٹی کی متفقہ منظوری کے بعد اب یہ بل پنجاب اسمبلی کے مکمل ایوان میں پیش کیا جائے گا جہاں اس کی حتمی منظوری کا انتظار ہے۔

