اسلام آباد: پاکستان نے ہفتے کے روز بھارت کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے قصور بارڈر فائرنگ پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ یہ اقدام جمعے کو بیڈیاں سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد پر بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کی فائرنگ کے بعد کیا گیا، جس میں دو افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوا تھا۔
دفتر خارجہ کا مؤقف
ملاقات کے بعد جاری بیان میں دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارتی سفارت کار کو بتایا گیا کہ یہ واقعہ بنیادی انسانی حقوق بشمول حقِ زندگی کی سنگین خلاف ورزی ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کے تحفظ پر گہرے سوالات اٹھاتا ہے۔ پاکستان نے جاں بحق افراد کو "درانداز” قرار دینے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کیا۔ بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ واقعے کی فوری، شفاف اور معتبر تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کے خلاف تادیبی اور قانونی کارروائی کی جائے اور نتائج سے حکومتِ پاکستان کو باضابطہ آگاہ کیا جائے۔ بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سرحدی انتظامات کا احترام کرے، ایسے حالات میں زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرے اور دوبارہ ایسا واقعہ نہ ہونے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
فائرنگ کا واقعہ
ریڈیو پاکستان اور جیو نیوز کے حوالے سے سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تینوں شہری لدھڑ گاؤں کے رہائشی تھے۔ ذرائع کے مطابق یہ افراد بارڈر پلر سے چند قدم آگے بڑھے تھے کہ بی ایس ایف اہلکاروں نے بغیر وارننگ فائرنگ کر دی۔ تینوں غیر مسلح تھے اور کسی نے بارڈر باڑ عبور کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت جتن والی حویلی لدھڑ کے رہائشی عظمت رسول شاہ اور محسن جٹ کے نام سے ہوئی، جبکہ زخمی کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ دفتر خارجہ نے بی ایس ایف کی کارروائی کو "بلا اشتعال مہلک طاقت کا استعمال” قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر غیر منصفانہ اور حد سے زیادہ کہا۔

