ناگویا: ایشین گیمز کشتی میں پاکستان کی مہم ہفتے کے روز مایوس کن انداز میں اختتام پذیر ہو گئی، جب جاپان کے شہر ناگویا میں جاری 20 ویں ایشین گیمز میں ملک کے آخری دو پہلوان عنایت اللہ اور محمد گلزار راؤنڈ آف 16 میں شکست کھا کر باہر ہو گئے۔
عنایت اللہ عالمی چیمپئن کے سامنے بے بس
یوتھ اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتنے والے عنایت اللہ کو مردوں کے فری اسٹائل 74 کلوگرام مقابلے میں قازقستان کے نورکوزہ کیپانوف نے 12-2 سے شکست دی۔ کیپانوف 2024 کے عالمی چیمپئن ہیں۔ ابتدائی مقابلے کے بعد کیپانوف نے گرفت مضبوط کی، پہلے پیریڈ میں 6-2 کی برتری حاصل کی اور دوسرے پیریڈ میں مزید چھ پوائنٹس بنا کر ٹیکنیکل سپیریارٹی سے کامیابی حاصل کی۔ اس شکست کے ساتھ 74 کلوگرام کیٹیگری میں پاکستان کی دلچسپی ختم ہو گئی۔
گلزار کو ایران اور ترکمانستان سے شکست
محمد گلزار کو مردوں کے فری اسٹائل 97 کلوگرام کے راؤنڈ آف 16 میں ایران کے امیرعلی آذرپیرا نے 10-0 سے ہرایا۔ آذرپیرا نے پہلے پیریڈ میں 6-0 کی برتری لی اور دوسرے پیریڈ میں مزید چار پوائنٹس بنا کر بغیر کوئی پوائنٹ گنوائے ٹیکنیکل سپیریارٹی سے جیت حاصل کی۔ ریپیشاج میں گلزار کو دوسرا موقع ملا مگر وہ اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے؛ ترکمانستان کے شتلیک ہیمیلیایوف نے پورے مقابلے میں برتری رکھتے ہوئے 12-0 سے کامیابی حاصل کی۔ گلزار دونوں مقابلوں میں ایک پوائنٹ بھی نہ بنا سکے۔
مٹی کی کشتی اور میٹ کا فرق
پاکستان ریسلنگ فیڈریشن کے صدر ارشد ستار نے شکستوں کی بڑی وجہ پاکستان کی روایتی کشتی اور جدید میٹ ریسلنگ کے درمیان فرق کو قرار دیا۔ ہفتے کو دی ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہمارے پہلوانوں کو میٹ ریسلنگ کی ترقی کے لیے مزید مواقع درکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پہلوان مٹی کی کشتی کی پیداوار ہیں جو ان کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے، جبکہ میٹ ریسلنگ ایک مختلف کھیل ہے جس کے لیے ریاست کی بھرپور معاونت ناگزیر ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر ریاست ساتھ دے تو پاکستان اگلے چند برسوں میں اولمپکس میں بھی تمغے جیتنا شروع کر دے گا۔
دیگر مقابلوں میں بھی مایوسی
ایک روز قبل نعمان زکا اور محمد عبداللہ بھی مقابلوں سے باہر ہو گئے تھے۔ تائیکوانڈو میں حمزہ عمر سعید کو مردوں کے 80 کلوگرام سے زائد وزن کے مقابلے میں تھائی لینڈ کے جیک مرسر نے 2-0 سے شکست دی، جبکہ شاہزیب خان جمعے کو 58 کلوگرام ایونٹ سے باہر ہوئے تھے۔ یوں ناگویا میں پاکستان کی کشتی مہم بغیر کسی تمغے کے ختم ہو گئی۔

