2026 کی متنازع ترین دستاویزی فلموں میں سے ایک "نازا” نے فلمی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس فلم کی خاص بات یہ ہے کہ اسے دو اسرائیلی فلمسازوں یووال ابراہم اور ریچل سزور نے بنایا ہے جو آسکر جیتنے والی فلم "نو ادر لینڈ” کے بھی ہدایت کاروں میں شامل تھے۔
80 منٹ دورانیے کی یہ دستاویزی فلم 10 ستمبر 2026 کو وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں پیش کی گئی جہاں اسے فیسٹیول کا اسپیشل جیوری پرائز بھی ملا۔
فلم فلسطینی گواہوں کے بجائے اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس کے اہلکاروں کے بیانات کو مرکز میں رکھتی ہے۔ یہی پہلو اسے غیر معمولی اور متنازع بناتا ہے کیونکہ اسرائیل کے اپنے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اندر سے اٹھنے والے سوالات سامنے آئے ہیں۔
"نازا” اسرائیلی فوجی اصطلاح ہے جس سے مراد متوقع اضافی نقصان ہے، یعنی وہ شہری ہلاکتیں جن کا فوجی کارروائی سے پہلے اندازہ لگایا جاتا ہے۔ فلم اسی تصور کے گرد گھومتی ہے۔
ایوارڈ سے بڑھ کر فلم کا اصل موضوع وہ انکشافات ہیں جو اسرائیلی فوج کے اندرونی ذرائع نے فلمسازوں کو بتائے۔ یہی وجہ ہے کہ "نازا” محض ایک ایوارڈ یافتہ فلم نہیں بلکہ ایک بڑے تنازع کا مرکز بن گئی ہے۔
ویب ڈیسک

