لاکھوں لوگوں کے لیے دن کا آغاز گرم چائے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، لیکن عام کالی چائے اور کافی میں موجود کیفین ہر کسی کو موافق نہیں آتی — کچھ لوگ بے چین ہو جاتے ہیں، کسی کو نیند میں خلل پڑتا ہے تو کسی کو سر درد یا دل کی دھڑکن تیز ہونے کی شکایت ہوتی ہے۔ اسی لیے اب بہت سے لوگ بغیر کیفین والے ہربل مشروبات کی طرف دیکھ رہے ہیں، اور انہی میں سے ایک مورنگا چائے ہے۔
مورنگا اولیفیرا کے پتوں سے بننے والی یہ چائے پاکستان میں سوہانجنا کے نام سے جانے جانے والے درخت سے حاصل ہوتی ہے۔ سادہ مورنگا چائے میں روایتی چائے کی پتی شامل نہیں ہوتی، اس لیے یہ عام طور پر کیفین سے پاک ہوتی ہے — تاہم بازار میں ملنے والے مکسچر میں سبز یا کالی چائے شامل ہو سکتی ہے، اس لیے لیبل ضرور دیکھیں۔
پتوں میں کیا پایا جاتا ہے؟
مورنگا کے پتوں میں پروٹین، وٹامنز، معدنیات اور کئی نباتاتی مرکبات پائے جاتے ہیں، جن میں فلیونوئڈز اور فینولک مرکبات جیسے کوئرسیٹن اور کلوروجینک ایسڈ شامل ہیں۔ محققین ان مرکبات کا مطالعہ کر رہے ہیں کیونکہ تجربہ گاہوں میں ان میں اینٹی آکسیڈنٹ سرگرمی دیکھی گئی ہے۔
لیکن ایک فرق سمجھنا ضروری ہے: پورے پتے کھانا اور چائے پینا ایک جیسا نہیں۔ گرم پانی میں صرف کچھ حل پذیر مرکبات آتے ہیں، اس لیے پتوں کی غذائیت کے دعوے ایک کپ چائے پر خودکار طور پر لاگو نہیں ہوتے۔
بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر پر تحقیق کیا کہتی ہے؟
ذیابیطس کے مریضوں پر ایک بے ترتیب انسانی آزمائش میں مورنگا کے پتوں کی مختلف مقداروں کے کچھ اثرات دیکھے گئے، لیکن شماریاتی ایڈجسٹمنٹ کے بعد نمایاں فرق ثابت نہ ہو سکا — محققین نے بہتری کو معمولی قرار دیا۔ 20 طبی مطالعات کے ایک جائزے میں مورنگا کے استعمال سے فاسٹنگ بلڈ گلوکوز، HbA1c اور بلڈ پریشر میں کمی کا تعلق ضرور نظر آیا، لیکن مطالعات کے معیار اور فرق کی وجہ سے نتائج کو ابتدائی ہی قرار دیا گیا۔
یعنی مورنگا دلچسپ ضرور ہے، لیکن یہ ذیابیطس کی دوا کا ثابت شدہ متبادل نہیں۔ جو لوگ انسولین یا شوگر کی دوا لیتے ہیں وہ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اسے باقاعدگی سے استعمال نہ کریں، اور بلڈ پریشر کی دوا بھی ہربل چائے کی وجہ سے ہرگز نہ چھوڑیں۔
تو کیا صبح کی چائے بدل لیں؟
اس کا جواب آپ کی توقع پر منحصر ہے۔ اگر آپ کو بغیر کیفین کا گرم مشروب چاہیے تو مورنگا چائے ایک سادہ نباتی انتخاب ہے۔ لیکن اسے وٹامن سپلیمنٹ، دوا یا بیماریوں سے بچاؤ کا ثابت شدہ نسخہ نہ سمجھیں — یہ متوازن خوراک کا حصہ بن سکتی ہے، اس کا متبادل نہیں۔ کسی بیماری کی صورت میں مناسب طبی مشورہ ہی درست راستہ ہے۔

