لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ اچھی کارکردگی دکھانے والی حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیے کیونکہ پالیسیوں کے تسلسل کا فقدان پاکستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ وہ جمعرات کو نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے سینئر آفیسرز لیڈرشپ کورس کے وفد سے خطاب کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی پالیسیوں کو حکومتوں کی تبدیلی سے بالاتر ہو کر جاری رہنا چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران دنیا کے سامنے پاکستان کا بہترین تشخص اور نیا چہرہ ابھر کر سامنے آیا، اور مسلح افواج سمیت سیکیورٹی ادارے ملک کے دفاع کے لیے گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اندرونی سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اچھی حکمرانی اور کارکردگی ناگزیر ہے۔
"ہم سب سے پہلے پاکستانی ہیں، چاہے ہمارا تعلق پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان یا گلگت سے ہو۔”
انہوں نے پنجاب میں ن لیگ کے طویل ادوار حکومت کو پالیسیوں کے تسلسل اور بہتر حکمرانی کا سبب قرار دیا۔
امن و امان کے دعوے
مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں دہشت گردی پر قابو پا لیا گیا ہے اگرچہ خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ان کے مطابق صوبے میں کبھی تقریباً 70 ایسے علاقے تھے جنہیں "نو گو ایریاز” سمجھا جاتا تھا لیکن اب ایسا کوئی علاقہ باقی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ 14 کروڑ عوام کی حفاظت کی ذمہ دار ہیں اس لیے انہیں ایسے فیصلے کرنا پڑے جو پہلے نہیں کیے گئے تھے۔
اپنی حکومت کے اقدامات گنواتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سرحدی علاقوں میں مضبوط چوکیوں، جدید اسلحے اور نائٹ ویژن کیمروں کے ذریعے سیکیورٹی انفراسٹرکچر مضبوط کیا گیا ہے اور دہشت گرد سرگرمیوں کی نشاندہی کے لیے چوبیس گھنٹے نگرانی کی جاتی ہے۔ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور گھریلو تشدد کا شکار ایسی خواتین کے لیے ورچوئل پولیس اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں جو تھانے نہیں جا سکتیں۔
اپنی حکومت پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ کئی مواقع پر انہیں "اپنے تحفظ یا عوام کے تحفظ” میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑا اور انہوں نے ہمیشہ عوام کو ترجیح دی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سو فیصد میرٹ یقینی بنایا گیا ہے اور انسداد بدعنوانی مہم کے تحت تقریباً 1,000 پولیس اور ریونیو افسران کو برطرف کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری کا بیان
بعد ازاں وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا واضح موقف ہے کہ حکومتیں بدل سکتی ہیں مگر قومی وژن اور عوامی فلاح کی پالیسیاں نہیں بدلنی چاہئیں۔ ان کے مطابق ملک کی ترقی کسی ایک صوبے، حکومت یا جماعت کی نہیں بلکہ مشترکہ ذمہ داری ہے، اور ترقی و عوامی فلاح کی پالیسیوں کو سیاسی تبدیلیوں کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب حکومت اور اپوزیشن سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں اور 4 اکتوبر کو جنوبی خیبرپختونخوا سے پی ٹی آئی کے مارچ کا اعلان بھی ہے۔
ویب ڈیسک

