سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو نے اس دعوے کے بعد بڑے پیمانے پر بحث چھیڑ دی کہ اس میں سعودی فضائی دفاعی نظام کو مکہ مکرمہ کے قریب حوثی ڈرون تباہ کرتے دکھایا گیا ہے۔ تاہم فیکٹ چیک میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ وائرل فوٹیج مکہ پر کسی حالیہ ڈرون حملے کی کوشش سے متعلق نہیں۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو پہلے 2025 میں آن لائن شیئر کی گئی تھی اور اب اسے گمراہ کن دعوے کے ساتھ دوبارہ پھیلایا جا رہا ہے۔ کئی سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ فوٹیج میں حوثی ڈرون کو مکہ کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہوتے اور سعودی دفاعی فورسز کے ہاتھوں تباہ ہوتے دکھایا گیا ہے۔
فوٹیج 2025 کی نکلی
فیکٹ چیکرز نے کلیدی الفاظ کی تلاش اور ریورس امیج سرچ کے ذریعے فوٹیج کے اصل ماخذ کا سراغ لگایا۔ معلوم ہوا کہ یہی ویڈیو ستمبر 2025 میں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نمودار ہوئی تھی۔ اس وقت اسے مدینہ منورہ کے قریب فضائی واقعے سے جوڑ کر شیئر کیا گیا تھا، جس میں مسجد نبوی ﷺ کے قریب زوردار دھماکے اور آسمان میں میزائل نما شے کی اطلاعات شامل تھیں۔ تاہم سعودی حکام نے اس وقت کی فوٹیج سے منسلک دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی تھی۔
15 ستمبر کا اصل واقعہ
ویڈیو کا حالیہ پھیلاؤ 15 ستمبر کو سعودی حکام کی جانب سے رپورٹ کردہ ایک الگ واقعے سے جڑا معلوم ہوتا ہے۔ سعودی حکام نے تصدیق کی تھی کہ مکہ مکرمہ کے جنوب میں ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ایک حوثی ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا گیا تھا۔ سعودی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق ڈرون ممنوعہ علاقے تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا۔
دوسری جانب حوثیوں نے مکہ مکرمہ یا کسی مذہبی مقام کو نشانہ بنانے کی تردید کی تھی۔
شیئر کرنے سے پہلے تصدیق کریں
ماہرین سوشل میڈیا صارفین کو خبردار کرتے ہیں کہ ویڈیوز شیئر کرنے سے پہلے ان کی تصدیق کریں، خاص طور پر جب وہ حساس مذہبی، سیکیورٹی یا سیاسی موضوعات سے متعلق ہوں۔ بڑے واقعات کے دوران پرانی ویڈیوز اکثر نئے عنوانات کے ساتھ دوبارہ استعمال کی جاتی ہیں۔ ریورس امیج سرچ، اصل اپ لوڈ کی تاریخ اور سرکاری بیانات سے آن لائن دعوؤں کی درستگی جانچی جا سکتی ہے۔
ویب ڈیسک

