آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے بدھ کو اکتوبر کے لیے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔ زیادہ سے زیادہ صارف قیمت بڑھ کر 279.34 روپے فی کلو ہو گئی ہے، جس کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہوگا۔ معیاری 11.8 کلو گرام کا گھریلو سلنڈر اب 3,296.23 روپے کا ملے گا، جو ستمبر سے 244.14 روپے زیادہ ہے — ایسے وقت میں جب سردیوں کی طلب بڑھنے لگی ہے۔
فی کلو 20.68 روپے کا اضافہ ستمبر کی قیمت پر تقریباً 8 فیصد بنتا ہے۔ یہ سپلائی چین کی ہر سطح پر لاگو ہوگا اور ملکی و درآمدی دونوں طرح کی ایل پی جی پر محیط ہے۔ ستمبر میں قیمت 258.66 روپے فی کلو تھی جو بڑھ کر 279.34 روپے ہو گئی، جبکہ سلنڈر 3,052.09 سے بڑھ کر 3,296.23 روپے کا ہو گیا۔
نوٹیفکیشن کی تفصیل
اوگرا نے 30 ستمبر کو اپنے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے ذریعے نوٹیفکیشن جاری کیا، جو اوگرا آرڈیننس 2002 کی دفعہ 6(2)(r) اور ایل پی جی (پیداوار و تقسیم) رولز 2001 کے قاعدہ 18(1) کے تحت عمل میں آیا۔ یہ فیصلہ وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کی سفارش پر کیا گیا اور 31 اگست کے نوٹیفکیشن کی جگہ لے گا۔ ستمبر میں بھی اضافہ ہوا تھا مگر صرف 4.33 روپے فی کلو — اکتوبر کا اضافہ اس سے تقریباً پانچ گنا بڑا ہے۔
اوگرا نے مہینے کی مکمل قیمت کی تفصیل بھی شائع کی ہے، جو 40 فیصد پروپین اور 60 فیصد بیوٹین کے مرکب پر مبنی ہے۔ پیداواری قیمت (85 روپے ایکسائز سمیت) 197,061.08 روپے فی ٹن، پیٹرولیم لیوی 4,669 روپے، پیداواری قیمت پر 18 فیصد جی ایس ٹی 36,311.41 روپے، جی ایس ٹی سمیت زیادہ سے زیادہ پیداواری قیمت 238,041.49 روپے، مارکیٹنگ و تقسیم کا مارجن 35,000 روپے اور اس پر 18 فیصد جی ایس ٹی 6,300 روپے شامل کر کے زیادہ سے زیادہ صارف قیمت 279,341.49 روپے فی ٹن یعنی 3,296.23 روپے فی سلنڈر بنتی ہے۔
نوٹیفائیڈ قیمت حد ہے، اس سے زیادہ وصولی ممنوع
صارفین کے حق میں ایک بات یہ ہے کہ ایل پی جی پالیسی 2016 کے تحت نوٹیفائیڈ قیمت ایک حد ہے۔ پیداواری کمپنیاں، مارکیٹنگ کمپنیاں اور تقسیم کار اس سے کم پر فروخت کر سکتے ہیں، مگر اس سے زیادہ وصول نہیں کر سکتے۔ صارفین کو چاہیے کہ سلنڈر خریدتے وقت سرکاری نرخ ضرور دیکھیں، کیونکہ بعض شہروں میں مارکیٹ کی قیمتیں حال ہی میں نوٹیفائیڈ حد سے کہیں اوپر چلتی رہی ہیں — ایک بگاڑ جس کی نشاندہی خود اوگرا نے نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی میں کی۔
سردیوں میں گھریلو بجٹ پر دباؤ
وقت صارفین کے لیے مشکل ہے۔ ایل پی جی ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے جہاں پائپ والی قدرتی گیس نہیں، اور لاکھوں گھرانوں کا یہی بنیادی ایندھن ہے۔ سردیاں قریب آنے پر کھپت عموماً بڑھ جاتی ہے، جس سے فی کلو نرخ کا اثر ماہانہ بجٹ پر اور گہرا ہوگا۔ اوگرا بین الاقوامی قیمتوں اور ڈالر کے تبادلہ نرخ کے مطابق ہر ماہ ایل پی جی کی قیمتوں پر نظرثانی کرتا ہے۔

