ایران کی عرب ریاستوں کو وارننگ سے خطے بھر میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی اکبر ولایتی نے سخت وارننگ دی؛ انہوں نے عرب رہنماؤں سے مداخلت کر کے کسی بھی جارحانہ اقدام کو روکنے کو کہا اور زور دیا کہ اگر ایران کے انفراسٹرکچر پر حملہ ہوتا ہے تو ایران سخت جواب دے گا۔
انہوں نے کہا کہ بجلی گھروں پر حملہ پورے خطے میں خلل ڈال سکتا ہے اور ایران کی سرحدوں سے باہر وسیع پیمانے پر بلیک آؤٹ کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کا حوالہ دیا اور ان بیانات کو خطرناک قرار دیا؛ ساتھ ہی انہوں نے عرب حکومتوں سے تعمیری کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے قانونی خدشات اٹھائے؛ انہوں نے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے کسی بھی منصوبے کو مسترد کیا اور کہا کہ بجلی گھروں اور پلوں پر حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور انہیں جنگی جرائم قرار دیا جا سکتا ہے۔
ایرانی حکام سرکاری بیانات میں ایران کی عرب ریاستوں کو وارننگ دہراتے رہتے ہیں؛ وہ چاہتے ہیں کہ علاقائی رہنما وارننگ کو سنجیدگی سے لیں۔ نتیجے کے طور پر حکومتوں پر دانشمندی سے جواب دینے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ایران نے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے اور خطے کے رہنماؤں کو مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے احتیاط سے کام لینا ہوگا۔

