تہران: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمی سے متعلق امریکہ کے حالیہ بیان کو سختی سے مسترد کر دیا۔ الجزیرہ کے مطابق ایرانی عسکری حکام نے امریکی دعوے کو مکمل طور پر غلط قرار دیا۔ خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے کہا کہ امریکی بیانیے میں ساکھ نہیں اور یہ حقیقت کی عکاسی نہیں کرتا۔
ترجمان نے زور دیا کہ ایران آبنائے ہرمز میں تمام سمندری نقل و حرکت پر مکمل اختیار رکھتا ہے، اور ایران کے علم یا نگرانی کے بغیر کوئی غیر ملکی جنگی جہاز اس تزویراتی آبی گزرگاہ سے نہیں گزر سکتا۔
امریکہ کا دعویٰ
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی بحریہ کے دو ڈسٹرائرز کامیابی سے آبنائے عبور کر چکے ہیں۔ امریکہ نے اس مشن کو سمندری بارودی سرنگیں صاف کرنے اور محفوظ نیویگیشن یقینی بنانے کی وسیع کوشش کا حصہ قرار دیا۔ رپورٹس کے مطابق امریکی آپریشن میں گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز شامل تھے، اور مستقبل میں زیر آب ڈرونز بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل کے راستوں میں سے ایک ہے؛ عالمی تیل کی فراہمی کا تقریباً 20 فیصد اس تنگ آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے، اس لیے کوئی بھی رکاوٹ عالمی تشویش کا باعث بنتی ہے۔ دونوں فریق متضاد بیانیے پیش کر رہے ہیں، جس سے غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔

