بھارت نے تیل کی تجارت کی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ایرانی تیل خرید کر امریکی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی میں ادائیگی شروع کر دی ہے۔ یہ اقدام عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی آئل ریفائنریز نے چینی یوآن میں ادائیگیاں شروع کر دی ہیں۔ یہ تبدیلی امریکہ کی جانب سے دی گئی عارضی رعایت کے دوران سامنے آئی ہے؛ رپورٹ کے مطابق امریکہ نے گزشتہ ماہ 30 روزہ چھوٹ دی تھی جس کے تحت ممالک کو ایران اور روس سے تیل خریدنے کی اجازت تھی تاکہ جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے دوران عالمی تیل کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پایا جا سکے۔
آئی سی آئی سی آئی بینک کے ذریعے ادائیگی
ذرائع کے مطابق ادائیگیاں آئی سی آئی سی آئی بینک کے ذریعے اس کی شنگھائی برانچ کے توسط سے ہو رہی ہیں جہاں سے یوآن میں ادائیگیاں ایرانی فروخت کنندگان کو منتقل کی جاتی ہیں۔ اپریل کے اوائل میں سرکاری انڈین آئل کارپوریشن نے تقریباً 2 ملین بیرل ایرانی خام تیل خریدا جس کی مالیت تقریباً 200 ملین ڈالر تھی۔ یہ تقریباً سات سال میں بھارت کی ایرانی تیل کی پہلی باضابطہ خریداری ہے۔ نجی شعبے میں بھی سرگرمی بڑھی؛ ریلائنس انڈسٹریز کی ریفائنری کو ایرانی تیل کی کھیپ ملی اور اطلاعات کے مطابق چار ٹینکروں کو بندرگاہوں پر اتارنے کی اجازت دی گئی۔
عالمی تجارت پر اثر
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ قدم عالمی تجارتی نمونوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ ڈالر سے دوری اختیار کرنا دیگر ممالک کو بھی ایسے آپشن تلاش کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے اور یہ عالمی مالیات میں چین کے بڑھتے کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ ایران کو برسوں سے امریکی پابندیوں کا سامنا ہے جس سے روایتی نظاموں کے ذریعے ادائیگی مشکل ہو گئی تھی؛ یہ نیا ادائیگی کا طریقہ ان رکاوٹوں میں سے کچھ کو کم کرنے میں مدد دے رہا ہے۔

