بھارت میں انتخابی کمیشن کے سربراہ کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ نوجوانوں کی جماعت "کاکروچ جنتا پارٹی” جمعے کو ممبئی میں احتجاج کرے گی جبکہ طلبہ اور سول سوسائٹی کے گروپ نئی دہلی کے جنتر منتر پر اسی مطالبے کے ساتھ جمع ہوں گے۔
مظاہرین کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن نے ووٹر فہرستوں میں اس طرح ردوبدل کیا جس سے وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچا۔ کمیشن اور حکومت نے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔
الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر دباؤ
گزشتہ ماہ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے بعد الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر دباؤ بڑھا جس میں بتایا گیا تھا کہ ان کے دو نائبین نے گزشتہ 10 ماہ میں کم از کم 14 بار ووٹر فہرستوں کی نظرثانی، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور کمیشن کے ڈیجیٹل نظام پر تحفظات اٹھائے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ مختلف آراء داخلی مشاورت کا معمول کا حصہ ہیں اور تمام اقدامات قانونی تھے۔
پارٹی کے کنوینر سوربھ داس نے جمعرات کو بھارتی خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے کہا: "ہم گیانیش کمار کے استعفے تک احتجاج ختم نہیں کریں گے۔”
تنازع کا مرکز گزشتہ برس شروع کی گئی ملک گیر ووٹر تصدیقی مہم ہے جس کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے لاکھوں اہل ووٹرز فہرستوں سے نکال دیے گئے۔ کمیشن کا موقف ہے کہ مہم کا مقصد جعلی، انتقال کر جانے والے یا نااہل ووٹرز کو نکال کر فہرستیں درست رکھنا ہے۔ کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن جماعتیں بھی 6 اکتوبر سے کمار کے استعفے کے لیے احتجاج شروع کر رہی ہیں۔
نوجوان تحریک سے سیاسی قوت
کاکروچ جنتا پارٹی رواں برس کے آغاز میں بے روزگاری اور امتحانی پرچوں کے لیک ہونے پر آن لائن ناراضی سے ابھری تھی اور اب ایک غیر متوقع سیاسی قوت بن چکی ہے۔ ابھیجیت دیپکے کی قیادت میں پارٹی نے قومی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔
ویب ڈیسک

