بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے ہفتے کے روز کہا کہ اس کا ہنگامی تیل کا اجراء 325 ملین بیرل سے تجاوز کر گیا ہے، کیونکہ رکن ممالک عالمی ایندھن کی فراہمی مستحکم کرنے کے لیے مارچ میں کیے گئے 400 ملین بیرل کے وعدے پر عمل کر رہے ہیں۔
یہ اپ ڈیٹ جی سیون ممالک کے آئی ای اے کے ساتھ مل کر اگلے چار ماہ میں مزید 100 ملین بیرل ڈیزل اور خام تیل جاری کرنے کے معاہدے کے ایک روز بعد سامنے آئی۔ یہ واضح نہیں کہ یہ 100 ملین بیرل مارچ کے وعدے کے باقی 75 ملین بیرل کا حصہ ہے یا اس سے الگ ہے۔
ڈیزل کی قلت فیصلے کی وجہ
یہ اجراء امریکا۔ایران جنگ سے پیدا ہونے والی عالمی توانائی کی فراہمی کی تشویش کو کم کرنے کے لیے ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کے باعث ایران امریکا اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، جس سے ڈیزل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔
یوکرین کے روسی ریفائنریز پر حملوں نے بھی مارکیٹ کو متاثر کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اتحادیوں پر ڈیزل کے ذخائر جاری کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، کیونکہ امریکا اور دیگر ممالک میں اس ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹرمپ نے جمعے کو الاباما کے شہر موبائل میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا جلد اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر بھرے گا۔
ڈیزل برآمد پر پابندی نہیں ہوگی
جی سیون نے کہا کہ 100 ملین بیرل کے اجراء میں پہلے 20 دن کے اندر ڈیزل کی نمایاں مقدار شامل ہوگی۔ گروپ نے یہ بھی طے کیا کہ اس کے ارکان کے درمیان ڈیزل کی برآمد پر کوئی پابندی نہیں ہوگی، جس سے واشنگٹن کی جانب سے اٹھائی گئی اس دھمکی کا خاتمہ ہو گیا جسے ٹرمپ نے بعد ازاں مسترد کر دیا تھا۔
آئی ای اے کے 11 مارچ کو اعلان کردہ اجتماعی اقدام میں سے اب تک تقریباً 325 ملین بیرل جاری کیے جا چکے ہیں، جو اصل 400 ملین بیرل کے وعدے کا 80 فیصد سے زائد ہے۔ یہ وعدہ ایجنسی کے 32 رکن ممالک نے کیا تھا، جن میں جی سیون کے تمام ممالک یعنی برطانیہ، کینیڈا، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکا شامل ہیں۔
پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے
پاکستان اپنا زیادہ تر پیٹرولیم درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی خام تیل اور ڈیزل کی قیمتیں براہ راست ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ظاہر ہوتی ہیں۔ ہنگامی فراہمی کے مستحکم بہاؤ سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے میں مدد ملے گی، تاہم اس کا اثر اس بات پر منحصر ہے کہ وعدہ کردہ تیل میں سے کتنا اصل میں مارکیٹ تک پہنچتا ہے اور مشرق وسطیٰ کا تنازعہ کس سمت جاتا ہے۔

