کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمتیں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے بعد سرمایہ کار اور عام خریدار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں نرخ بڑھیں گے یا کم ہوں گے — اور کیا یہ سونا خریدنے کا درست وقت ہے؟
ماہرین کے مطابق عالمی معاشی حالات، کرنسی کی نقل و حرکت اور سرمایہ کاروں کی طلب کے باعث سونے کی منڈی میں تبدیلیاں جاری ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہے کیونکہ بین الاقوامی عوامل مقامی صرافہ بازار پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
قیمتوں پر دباؤ کیوں ہے؟
پاکستان میں 24 قیراط سونے کی قیمت بین الاقوامی نرخوں اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر سے جڑی ہے۔ عالمی منڈی میں کوئی بڑی تبدیلی براہ راست مقامی قیمتوں پر اثر ڈالتی ہے۔ حالیہ سیشنز میں مضبوط ڈالر اور سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات نے قیمتوں پر دباؤ ڈالا ہے۔
تاہم کئی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حالیہ کمی کا مطلب طویل مدتی گراوٹ نہیں۔ غیر یقینی معاشی حالات میں سونا محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے اس لیے اس کی طلب برقرار رہتی ہے۔
قیمتیں بڑھنے کے امکانات
عالمی غیر یقینی صورتحال سونے کی بڑھتی طلب کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ معاشی مشکلات، سیاسی کشیدگی اور مالیاتی بے یقینی کے دوران سرمایہ کار سونے کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ دنیا بھر کے مرکزی بینک بھی اپنے ذخائر میں سونا بڑھا رہے ہیں جس سے بین الاقوامی قیمتوں کو سہارا ملتا ہے۔
مہنگائی بھی ایک اہم عنصر ہے۔ جب لوگ بڑھتی قیمتوں اور قوت خرید میں کمی سے پریشان ہوتے ہیں تو دولت کے تحفظ کے لیے سونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ روپے کی نقل و حرکت بھی فیصلہ کن کردار ادا کرے گی — اگر کرنسی مزید کمزور ہوئی تو بین الاقوامی نرخ مستحکم رہنے کے باوجود مقامی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
ویب ڈیسک

