ویب ڈیسک: فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے 1.12 کھرب روپے کی مبینہ ٹیکس چوری کی بڑی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے 108 کمپنیوں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ یہ ملک میں نجی کمپنیوں کے خلاف اہم ترین مالی تحقیقات میں سے ایک بن سکتی ہے۔
دستیاب تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے نے کیس کے لیے پانچ رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے جس کی سربراہی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نارتھ کریں گے۔ ٹیم میں ڈائریکٹر اسلام آباد، ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن، ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن اور ایک انسپکٹر شامل ہیں۔ تحقیقات کا آغاز سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے داخلہ کی سفارشات پر کیا گیا۔
ٹیکس فری زونز کا معاملہ
ایف آئی اے یہ جانچے گی کہ کمپنیوں نے ٹیکس فری زونز کے ذریعے سامان درآمد کرتے ہوئے مبینہ طور پر ٹیکس سے بچنے کی کوشش کی۔ حکام کی توجہ ملاکنڈ اور خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں میں ٹیکس فری زونز میں داخل ہونے والے درآمدی سامان پر مرکوز ہے۔ ذرائع کے مطابق زیر تفتیش رقم تقریباً 1.12 کھرب روپے تک پہنچ گئی ہے۔
خوردنی تیل کی کمپنی کو نوٹس
تحقیقات کے حصے کے طور پر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے ایک نجی خوردنی تیل کی کمپنی کو قانونی نوٹس جاری کیا ہے۔ تفتیش کاروں نے کمپنی کی انتظامیہ سے تفصیلی مالی اور کاروباری ریکارڈ طلب کیا ہے۔ ایف آئی اے نے کمپنی کے مالکان اور منیجنگ ڈائریکٹر کو طلب کرتے ہوئے انہیں صبح 10 بجے ایف آئی اے اسلام آباد زون میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔
تفتیش کاروں نے کمپنی کا مکمل فیکٹری ریکارڈ، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی رجسٹریشن دستاویزات، اب تک موصول ہونے والے تمام درآمدی سامان کی تفصیل، آپریشنز سے منسلک بینک اکاؤنٹس کی مکمل تفصیلات، حوالہ ہنڈی یا دیگر ادائیگی ذرائع کی معلومات اور درآمدی سامان سے متعلق کسٹمز دستاویزات طلب کی ہیں۔
ابتدائی مرحلہ
ایف آئی اے نے ابتدائی مرحلے میں 389 ارب روپے کی مبینہ ٹیکس بے ضابطگیوں پر 108 کمپنیوں کی جانچ شروع کی ہے۔ حکام نے ان کمپنیوں کو نوٹس بھیج دیے ہیں۔ نوٹس میں انتظامیہ کو مطلوبہ معلومات فراہم نہ کرنے کی صورت میں ممکنہ قانونی نتائج سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔
ٹیکس وصولی پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ حکومت عوامی خدمات اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے محصولات پر انحصار کرتی ہے۔ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے اگر حکام کو جائزے کے دوران مزید مالی بے ضابطگیاں ملیں۔ تاہم الزامات کو دستاویزی اور مالی شواہد سے ثابت کرنا ہوگا، اور کمپنیوں کو اپنا ریکارڈ پیش کر کے لین دین کی وضاحت کا موقع ملے گا۔

