اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان انفارمیشن سیکیورٹی فریم ورک 2026 پر عمل درآمد کے سلسلے میں وفاقی کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم یعنی فیڈرل سرٹ کے قیام کا عمل شروع کر دیا ہے۔ نئی ٹیم وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں، محکموں اور دیگر سرکاری اداروں کو بڑھتے ہوئے سائبر خطرات سے بچانے پر توجہ دے گی۔
فیڈرل سرٹ کا بنیادی کام سرکاری اداروں کو ہیکرز، مالویئر، فشنگ مہمات اور دیگر ڈیجیٹل خطرات کی صورت میں فوری ردعمل میں مدد فراہم کرنا ہوگا۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق یہ ٹیم قومی سرٹ (National CERT) کی مجموعی نگرانی اور رابطہ کاری میں کام کرے گی تاکہ وفاقی ادارے سائبر خطرات سے متعلق معلومات کا تبادلہ کر سکیں اور واقعات کا مؤثر جواب دے سکیں۔
ڈیجیٹل خدمات کے ساتھ بڑھتے خطرات
حکومتی خدمات کے ڈیجیٹل ہونے کے ساتھ سائبر حملوں کا خدشہ بھی بڑھا ہے۔ وفاقی محکمے اب آن لائن پورٹلز، ڈیٹا بیسز، ڈیجیٹل مواصلاتی نظام اور کلاؤڈ سروسز پر انحصار کرتے ہیں، اسی لیے حکومت کسی بڑے سائبر واقعے سے پہلے ان نظاموں کا تحفظ بہتر بنانا چاہتی ہے۔
فیڈرل سرٹ سرکاری نیٹ ورکس میں سائبر خطرات کی نگرانی کرے گی اور مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کرے گی۔ ٹیم کے ساتھ کام کرنے والے سائبر سیکیورٹی ماہرین اداروں کو ممکنہ حملوں کی بروقت نشاندہی میں مدد دیں گے۔ ماہرین کے مطابق غیر معمولی سرگرمی کی جلد نشاندہی سے نقصان کم کیا جا سکتا ہے، کیونکہ متاثرہ نظام الگ کر کے مشکوک رسائی روکی جا سکتی ہے۔
اداروں کے درمیان رابطہ اور معلومات کا تبادلہ
سائبر خطرات اکثر ایک سے زائد اداروں کو متاثر کرتے ہیں۔ ہیکرز ایک ہی فشنگ ای میل یا نقصان دہ سافٹ ویئر سے بیک وقت کئی اداروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، اس لیے معلومات کا فوری تبادلہ دوسرے اداروں کو حملے سے پہلے محفوظ بنانے میں مددگار ہوتا ہے۔
فیڈرل سرٹ وفاقی اداروں کے درمیان سائبر تھریٹ انٹیلی جنس کے تبادلے میں معاونت کرے گی۔ ان معلومات میں مشکوک آئی پی ایڈریسز، نقصان دہ فائلز، فشنگ مہمات، سافٹ ویئر کی کمزوریوں اور غیر معمولی نیٹ ورک سرگرمی کی تفصیلات شامل ہو سکتی ہیں، جس سے اداروں کو ابھرتے خطرات کی پیشگی وارننگ ملے گی۔
ماہرین کی بھرتی شروع
ذرائع کے مطابق نیشنل سرٹ نے ڈائریکٹر سمیت مختلف عہدوں پر بھرتی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ ماہرین تکنیکی امور سنبھالیں گے اور جدید سائبر خطرات کا جواب دینے کی حکومتی صلاحیت بہتر بنائیں گے۔
یہ پیش رفت پاکستان انفارمیشن سیکیورٹی فریم ورک 2026 کی جانب ایک اور قدم ہے، جس کا مقصد سرکاری اداروں میں یکساں انفارمیشن سیکیورٹی معیارات قائم کرنا اور محکموں کے درمیان سائبر سیکیورٹی کے طریقوں میں فرق کم کرنا ہے۔
ملازمین کی تربیت بھی ضروری
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ٹیکنالوجی ہر سائبر حملہ نہیں روک سکتی۔ حملہ آور اکثر فشنگ ای میلز، جعلی ویب سائٹس اور سوشل انجینئرنگ کے ذریعے ملازمین کو نشانہ بناتے ہیں، اس لیے سائبر آگاہی اور تربیت بھی حکومتی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال نے بھی نئے خدشات پیدا کیے ہیں۔ سرکاری ملازمین کو غیر مجاز پلیٹ فارمز پر خفیہ دستاویزات یا شہریوں کی ذاتی معلومات شیئر کرنے سے گریز کرنا ہوگا، اور فیڈرل سرٹ اداروں کو ان ابھرتے خطرات سے متعلق رہنمائی بھی فراہم کرے گی۔
ٹیم کے مکمل فعال ہونے کے بعد وفاقی وزارتوں کو مربوط تکنیکی معاونت، خطرات کی نگرانی، واقعات کے جواب کی سہولت اور سیکیورٹی رہنمائی میسر آئے گی۔ تاہم اس نظام کی کامیابی کا دارومدار درست عمل درآمد، تربیت یافتہ عملے، جدید نگرانی کے آلات اور واضح رپورٹنگ کے طریقہ کار پر ہوگا۔

