ویب ڈیسک
چھاتی کا سرطان خوفناک موضوع لگ سکتا ہے اور اکثر خواتین اس بارے میں سوچنا پسند نہیں کرتیں۔ تاہم اس کی ابتدائی علامات جاننا اپنے لیے سب سے اہم احتیاط ہے۔ جلد تشخیص پر علاج کہیں زیادہ مؤثر اور نرم ہوتا ہے۔ یہاں سادہ الفاظ میں وہ دس اہم تبدیلیاں بیان کی گئی ہیں جن پر نظر رکھنی چاہیے، ساتھ یہ بھی کہ کب ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
جلد تشخیص کیوں ضروری ہے؟
جلد تشخیص کا مطلب ہے سرطان کو پھیلنے سے پہلے پکڑنا۔ اس مرحلے میں علاج کے زیادہ راستے ہوتے ہیں اور مکمل صحت یابی کے امکانات کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ اکثر خواتین شرم یا خوف سے معائنہ مؤخر کرتی ہیں، حالانکہ اکثر تبدیلیاں بے ضرر نکلتی ہیں جیسے سسٹ یا ہارمونز کی تبدیلی۔
1۔ چھاتی میں نئی گلٹی یا گاڑھا پن
گلٹی سب سے معروف علامت ہے۔ یہ جلد کے نیچے چھوٹے سخت مٹر جیسی یا کنکر جیسی محسوس ہو سکتی ہے۔ اکثر گلٹیاں سرطانی نہیں ہوتیں، لیکن ہر نئی گلٹی کا طبی معائنہ ضروری ہے۔ چھونے سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ وہ گلٹی جو آس پاس کی نسیج سے مختلف لگے یا ماہواری کے بعد بھی نہ جائے، ڈاکٹر کو دکھائیں۔
2۔ بغل میں گلٹی یا گاڑھا حصہ
چھاتی کی نسیج بغل تک پھیلی ہوتی ہے، اس لیے وہاں بھی گلٹی بن سکتی ہے۔ بغل میں بغیر درد کی سوجن جو ہفتوں رہے، اس کا معائنہ کرائیں۔
3۔ سائز یا شکل میں تبدیلی
ہر عورت کی چھاتیاں تھوڑی مختلف ہوتی ہیں، یہ معمول ہے۔ لیکن ایک چھاتی کا اچانک بڑا، نیچا یا مختلف شکل کا ہو جانا توجہ مانگتا ہے۔ بغیر واضح گلٹی کے پوری چھاتی کی سوجن بھی علامت ہو سکتی ہے۔ آئینے میں وقتاً فوقتاً دیکھیں۔
4۔ جلد میں گڑھے یا سلوٹیں
صحت مند جلد ہموار ہوتی ہے۔ سنترے کے چھلکے جیسی جلد، گڑھے یا سلوٹیں اس وقت بنتی ہیں جب نیچے کی نسیج جلد کو اندر کھینچے۔ چھوٹا سا دھبہ بھی ڈاکٹر کو دکھانے کے قابل ہے۔
5۔ سرخی، خارش یا خشکی
سرخی اکثر کپڑوں کی رگڑ سے ہوتی ہے، لیکن نہ جانے والی سرخی طبی مشورہ مانگتی ہے۔ چھاتی کے سرطان کی ایک نایاب قسم میں گلٹی کے بجائے جلد ہی سرخ، سوجی اور گرم نظر آتی ہے۔ نپل کے گرد خشکی جو دو ہفتے میں ٹھیک نہ ہو، دکھائیں۔
6۔ نپل کا اندر دھنسنا یا چپٹا ہونا
بعض خواتین کی نپل قدرتی طور پر اندر دھنسی ہوتی ہے، یہ ٹھیک ہے۔ تشویش اس تبدیلی پر ہے: پہلے باہر نکلنے والی نپل کا اندر مڑنا، چپٹا ہونا یا ایک طرف کھنچنا۔ یہ تبدیلی آہستہ ہو سکتی ہے، اس لیے پہلے کی حالت سے موازنہ کریں۔
7۔ دودھ کے علاوہ نپل سے رطوبت
دودھ نہ پلا رہی ہوں تو نپل سے رطوبت غیر معمولی ہے۔ صاف، سفید، پیلی یا خونی رطوبت کا معائنہ کرائیں۔ خونی رطوبت خاص طور پر فوری توجہ مانگتی ہے۔ بار بار نپل دبا کر چیک نہ کریں۔
8۔ چھاتی یا نپل میں مستقل درد
چھاتی کا درد عام اور اکثر بے ضرر ہے، خاص طور پر ایام سے پہلے دونوں چھاتیوں میں۔ لیکن صرف ایک چھاتی میں وہ درد جو ایام کے بعد بھی نہ جائے، یا ایک ہی جگہ کا درد، ڈاکٹر کو دکھائیں۔
9۔ کالر بون یا گردن کے پاس سوجن
کالر بون کے اوپر اور گردن میں لمف نوڈز ہوتے ہیں۔ ان میں دو تین ہفتے سے زیادہ رہنے والی سوجن کا معائنہ کرائیں، اگرچہ عام انفیکشن سے بھی سوجن ہو سکتی ہے۔
10۔ ایک چھاتی میں گرمی یا بھاری پن
کبھی ایک چھاتی دوسری سے گرم، بھاری یا بھری محسوس ہوتی ہے۔ ایام سے پہلے عارضی بھراؤ معمول ہے، لیکن ایک طرف کی مستقل گرمی یا بھاری پن ڈاکٹر کو بتائیں۔ اپنے جسم کے معمول کو آپ سب سے بہتر جانتی ہیں۔
پاکستان میں خواتین کے لیے اہم بات
چھاتی کا سرطان پاکستان میں خواتین میں سب سے زیادہ تشخیص ہونے والا سرطان ہے، مگر اکثر کیسز دیر سے سامنے آتے ہیں۔ ایک وجہ جھجک ہے۔ یاد رکھیں کہ پردے کا احترام کرتے ہوئے علاج ممکن ہے اور خاتون ڈاکٹر مانگنا آپ کا حق ہے۔ دوسری وجہ آگاہی کی کمی ہے۔ یہ علم خاندان میں پھیلائیں۔ سرطان شرم کی بات نہیں، بیماری ہے۔ جلد علاج دانشمندی ہے۔
کب ڈاکٹر سے ملیں؟
اوپر بیان کردہ دس علامات میں سے کوئی بھی نظر آئے تو انتظار نہ کریں۔ نئی گلٹی، رطوبت، جلد کی تبدیلی، ایک طرفہ مستقل درد یا ہفتوں رہنے والی سوجن پر فوری اپائنٹمنٹ لیں۔ کلینک میں ڈاکٹر سوالات پوچھ کر معائنہ کرے گی اور ضرورت پر الٹراساؤنڈ یا میموگرام تجویز کرے گی۔ قیمت کی فکر ہو تو سرکاری اسپتالوں میں کم قیمت پر معائنہ ہوتا ہے اور بعض فلاحی ادارے مفت کیمپ بھی لگاتے ہیں۔
گھر پر ماہانہ خود معائنہ
ایام ختم ہونے کے چند دن بعد آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر سائز، شکل اور جلد دیکھیں، پھر لیٹ کر انگلیوں کے چپٹے حصے سے ہلکے، درمیانے اور گہرے دباؤ سے پوری چھاتی چیک کریں۔ یہ طبی اسکریننگ کا متبادل نہیں مگر آپ کو اپنے جسم سے آشنا کرتا ہے۔
عام سوالات
کیا ہر گلٹی سرطان ہوتی ہے؟ نہیں، اکثر سسٹ یا نسیج کی تبدیلی ہوتی ہے، لیکن ہر نئی گلٹی کا ٹیسٹ ضروری ہے۔ کیا نوجوان خواتین کو بھی ہو سکتا ہے؟ جی ہاں، کم عمر میں کم عام ہے مگر ناممکن نہیں۔ کیا برا یا ڈیوڈرنٹ سرطان کرتے ہیں؟ اس کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں۔
یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے، طبی مشورہ نہیں۔ کسی بھی غیر معمولی تبدیلی پر مستند ڈاکٹر سے فوری رجوع کریں۔

