عرب اسرائیلی سیاستدان سامی ابو شہادہ اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات سے دستبردار ہو گئے ہیں۔ یہ فیصلہ اسرائیل کی سپریم کورٹ کی جانب سے اشارہ ملنے کے بعد کیا گیا کہ ججوں کی اکثریت انہیں انتخابی دوڑ سے باہر کرنے کے حق میں ہے۔
ابو شہادہ بائیں بازو کی فلسطینی جماعت بلد کے سربراہ ہیں اور 2019 سے 2022 تک اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کے رکن رہے۔ ان کی جماعت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ان کی سیاسی جدوجہد کا خاتمہ نہیں اور وہ پارٹی کی قیادت جاری رکھیں گے۔
نااہلی کی وجہ
گزشتہ ہفتے اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی نے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کی درخواست پر ابو شہادہ کو نااہل قرار دیا تھا۔ یہ اقدام ان کے ایک مضمون کے بعد کیا گیا جس میں انہوں نے حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کو "اہم تاریخی واقعہ” قرار دیا تھا۔ ابو شہادہ حملے کی حمایت سے انکار کرتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے جمعرات کو نااہلی کے خلاف ان کی اپیل کی سماعت کی۔ فیصلہ سنانے کے بجائے عدالت نے انہیں رضاکارانہ دستبرداری کی تجویز دی اور فیصلے کے لیے جمعے کی صبح تک کا وقت دیا۔ بلد کے مطابق ابو شہادہ کے پاس دستبردار ہونے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا تاکہ باضابطہ نااہلی سے بچا جا سکے جس کے "ملک کی سیاسی اور پارلیمانی زندگی پر سنگین نتائج” ہوتے۔ اسرائیل میں امیدواروں کی نااہلی نایاب ہے اور سپریم کورٹ تاریخی طور پر اکثر پابندیاں کالعدم قرار دیتی رہی ہے۔
"شدید دھچکا”
ابو شہادہ کی نمائندگی کرنے والی اسرائیلی حقوق کی تنظیم عدالہ نے سپریم کورٹ پر انہیں دستبردار ہونے پر مجبور کر کے عملاً نااہل قرار دینے کا الزام لگایا۔ تنظیم نے اے ایف پی کو بیان میں کہا: "ایک فلسطینی رہنما کو کنیسٹ انتخابات سے باہر کر دیا گیا ہے۔” عدالہ کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے کارکن، قانون ساز اور پارٹی رہنما کے طور پر ابو شہادہ کی دہائیوں پر محیط عوامی زندگی تشدد کی "مستقل اور غیر مبہم مخالفت” کا ثبوت ہے۔
ویب ڈیسک

