گوجرانوالہ عدالت کا فیصلہ
گوجرانوالہ کی ایک عدالت نے اتوار کے روز قصور پولیس مقابلے کے مقدمے میں نامزد 5 پولیس اہلکاروں کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے حوالے کر دیا۔ سینئر سول جج احسان صابر نے تفتیشی افسر کی 14 روزہ حراست کی درخواست کے باوجود صرف 5 دن کا ریمانڈ منظور کیا۔
ملزمان میں سابق ایس ایچ او حسن عمران، چوکی انچارج طارق محمود، سب انسپکٹر محمد صادق اور کانسٹیبل محمد اشتیاق اور یعقوب شامل ہیں۔ عدالت نے ملزمان کا میڈیکل معائنہ کرانے کا حکم بھی دیا۔
ان پانچوں کے خلاف ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ کے تحت قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور تفتیش اپریل میں ایف آئی اے گوجرانوالہ کو منتقل کی گئی تھی۔
قصور مقابلہ کیس کیا ہے
یہ مقدمہ قصور میں ایک پولیس مقابلے سے متعلق ہے جس میں ان پانچوں اہلکاروں پر ملوث ہونے کا الزام ہے۔ اپریل میں معاملہ ایف آئی اے گوجرانوالہ کو منتقل ہونے کے بعد ایجنسی نے ملزمان کی حراست حاصل کرنے کے لیے کوششیں تیز کیں۔ اتوار کو عدالت نے ملزمان کو ایجنسی کے حوالے کرنے پر اتفاق کیا لیکن 14 دن کی درخواست کو کم کر کے 5 دن کا ریمانڈ دیا، جو تفتیشی ایجنسیوں کی طویل حراست کی درخواستوں پر معمول کا عدالتی کنٹرول ہے۔
ملزمان کا عدالتی حکم پر میڈیکل معائنہ حراستی موت کے قانون کے تحت درج مقدمات میں معمول کی کارروائی ہے، جس سے حراست منتقل ہونے کے وقت ملزمان کی جسمانی حالت کا آزاد ریکارڈ قائم ہوتا ہے۔
قانون جس کے تحت مقدمہ درج ہے
ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (پریونشن اینڈ پنشمنٹ) ایکٹ 2022 حراست میں تشدد اور موت کو جرم قرار دیتا ہے اور ذمہ دار پائے جانے والے سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کا بندوبست کرتا ہے۔ اس قانون کے تحت قتل کے الزامات میں سخت ترین سزائیں ہیں اور ایسے مقدمات عام طور پر متعلقہ پولیس محکمے سے باہر تفتیش کیے جاتے ہیں، اسی لیے یہ مقدمہ ایف آئی اے کے پاس ہے۔
مبینہ جعلی مقابلوں کا معاملہ پنجاب میں برسوں سے متنازع رہا ہے اور عدالتوں و انسانی حقوق کے اداروں نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ پولیس حراست میں مشتبہ افراد کی ہلاکت کی صورت میں آزادانہ تفتیش کی جائے۔
اگلا مرحلہ
ایف آئی اے کے پاس اب 5 دن ہیں جس میں وہ ملزمان سے تفتیش کرے گی اور شواہد جمع کر کے انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کرے گی۔ اس کے بعد ایجنسی اپنی تفتیشی رپورٹ جمع کرائے گی اور مقدمہ ٹرائل کی طرف بڑھے گا۔ اگر عدالت کو اطمینان ہو کہ تفتیش کے لیے مزید وقت درکار ہے تو ریمانڈ میں توسیع ممکن ہے، لیکن ہر توسیع کے لیے ایجنسی کو پیش رفت دکھانا ہوگی۔

