وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 12.90 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد نئی قیمت 8 ستمبر 2026 سے 358.77 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ یہ اضافہ ان لاکھوں خاندانوں کے لیے ایک اور مشکل ہے جو پہلے ہی بڑھتے ہوئے اخراجات سے نبرد آزما ہیں۔
عام خاندان سب سے زیادہ متاثر
پیٹرول کی قیمت میں اضافہ صرف کار مالکان کو متاثر نہیں کرتا۔ ایندھن مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھتے ہیں، اشیائے خورونوش کی ترسیل مہنگی ہوتی ہے اور بالآخر بازار میں ہر چیز کی قیمت پر اثر پڑتا ہے۔ کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے یہ بوجھ سب سے بھاری ہوتا ہے کیونکہ ان کی آمدنی کا بڑا حصہ بنیادی ضروریات پر خرچ ہوتا ہے اور بجٹ میں گنجائش نہیں رہتی۔
مہنگائی کا دباؤ بڑھے گا
ماہرین کے مطابق ایندھن اور مہنگائی کا گہرا تعلق ہے۔ پاکستان میں سامان کی نقل و حمل کا انحصار سڑکوں پر ہے، اس لیے پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے سبزیوں، پھلوں، ادویات اور صنعتی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہوتا ہے۔ طلبہ، ملازمین اور مزدور جو روزانہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں، انہیں بڑھے ہوئے کرایوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ چھوٹے کاروبار بھی متاثر ہوں گے جن کے لیے ترسیلی اخراجات بڑھنا منافع میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
حکومت کا موقف
حکومت عام طور پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں، شرح تبادلہ اور درآمدی لاگت کو قرار دیتی ہے۔ پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں کا براہ راست اثر مقامی نرخوں پر پڑتا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس اور لیوی بھی سرکاری آمدن کا ذریعہ ہیں۔
مستقل حل کیا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں بار بار اضافہ مستقل حل نہیں۔ قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری، بہتر پبلک ٹرانسپورٹ نظام اور ایندھن کی بچت کے اقدامات سے طویل مدت میں دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی کمزور طبقوں کے لیے ہدفی ریلیف اقدامات بھی ضروری ہیں تاکہ مہنگائی کا بوجھ سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں پر نہ پڑے۔

