واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحری جہاز رات کے وقت آبنائے ہرمز سے گزر جاتے ہیں اور ایران انہیں دیکھ بھی نہیں پاتا۔ ان کے بقول ایران کے ریڈار نظام تباہ ہو چکے ہیں، اس لیے وہ ان سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بات امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی پر گفتگو کے دوران کہی۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی نقل و حمل کا اہم ترین راستہ ہے جو خلیجی خطے کو عالمی منڈیوں سے جوڑتا ہے، اسی لیے یہ آبی گزرگاہ ہمیشہ عالمی توجہ کا مرکز رہتی ہے۔
ایران سے معاہدے پر ٹرمپ کا مؤقف
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے اور خطے میں مزید امریکی افواج کی تعیناتی کے بارے میں سوال کیا گیا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن یا تو ایران کے ساتھ ایک مضبوط معاہدہ کرے گا یا کوئی معاہدہ نہیں کرے گا۔ تاہم انہوں نے معاہدے کی شرائط کے بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی۔
ٹرمپ نے ایران کی معاشی صورتحال پر بھی بات کی اور دعویٰ کیا کہ ایران شدید مہنگائی اور معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ ان کے بقول ایران میں مہنگائی کی شرح 300 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور ملک اپنی تاریخ کے مشکل ترین معاشی دور سے گزر رہا ہے۔ ایرانی حکام ماضی میں بھی ایسے دعوؤں کو مسترد کرتے رہے ہیں اور ملکی معیشت کے بارے میں مختلف مؤقف پیش کرتے ہیں۔
کشیدگی فیصلہ کن مرحلے کی طرف
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ تنازع ایک نازک اور فیصلہ کن مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل کی صورتحال کے پیش نظر امریکا کو مزید فوجی اقدامات پر غور کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے حوالے سے جلد ایک اہم فیصلہ کریں گے اور اس سے پہلے علاقائی شراکت داروں سے مشاورت بھی کی جائے گی۔
ٹرمپ نے ایران کی بحری سرگرمیوں کو محدود کرنے اور اس کی تیل کی برآمدات روکنے کی کوششوں پر اطمینان کا اظہار بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کا خاتمہ ایک بڑا فیصلہ ہوگا اور ان کے بقول تمام ممکنہ آپشنز زیر غور ہیں۔
آبنائے ہرمز سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل گزرتا ہے، اسی لیے اس علاقے میں کسی بھی فوجی کشیدگی سے عالمی تیل کی فراہمی اور بحری تجارت متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ توانائی کمپنیاں اور جہاز رانی ادارے علاقے کے خطرات کا مسلسل جائزہ لیتے ہیں اور غیر یقینی صورتحال کے دوران متبادل منصوبے تیار رکھتے ہیں۔ علاقائی ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں خلیجی خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ویب ڈیسک

