کراچی: ٹویوٹا پاکستان کی بنیادی کمپنی انڈس موٹر کمپنی نے بعض رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز (REEVs) کو دی جانے والی ٹیکس رعایت پر اعتراض اٹھایا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ کچھ حریف REEV کیٹیگری کا فائدہ اٹھا کر کم ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ یہ مسئلہ مالی سال 2026 کے نتائج کے اعلان کے بعد 37ویں سالانہ جنرل میٹنگ میں اٹھایا گیا۔
انڈس موٹر کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو سمیت ریگولیٹرز اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کمپنی کا موقف ہے کہ کچھ گاڑیاں ایسی کیٹیگری میں آ رہی ہیں جس سے انہیں روایتی ہائبرڈ گاڑیوں سے بہتر ٹیکس پوزیشن مل رہی ہے — تاہم یہ انڈسٹری کا اعتراض ہے، ریگولیٹر کی حتمی رائے نہیں۔
تنازع کیا ہے؟
REEVs میں پہیے الیکٹرک موٹر سے چلتے ہیں، جبکہ ساتھ لگا پیٹرول انجن عام طور پر صرف بیٹری کے لیے بجلی بنانے کا کام کرتا ہے — پہیوں سے اس کا براہ راست مکینیکل تعلق نہیں ہوتا۔ اسی تکنیکی فرق کی وجہ سے درجہ بندی اہم ہو گئی ہے کیونکہ اس سے کسٹمز، سیلز ٹیکس اور حتمی قیمت متاثر ہوتی ہے۔
انڈس موٹر کا کہنا ہے کہ REEVs کو صرف اس لیے مکمل بیٹری الیکٹرک گاڑیوں جیسی رعایت نہیں ملنی چاہیے کہ ان کے پہیے الیکٹرک موٹر سے چلتے ہیں — ان میں اب بھی اندرونی دہن انجن اور پیٹرول استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن بھی ماضی میں ایسے ہی خدشات ظاہر کر چکی ہے۔
ایف بی آر کا فیصلہ
ایف بی آر کی کسٹمز کلاسیفیکیشن کمیٹی دو مخصوص REEV ماڈلز — ماسٹر چنگان موٹرز کی ڈیپل S05 REEV اور کیپٹل اسمارٹ موٹرز کی فورتھنگ فرائیڈے REEV — کا جائزہ لے چکی ہے۔ اکثریتی فیصلے میں کمیٹی نے دونوں گاڑیوں کو PCT 8703.8090 کے تحت درج کیا، جو صرف الیکٹرک موٹر سے چلنے والی گاڑیوں کی کیٹیگری ہے۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ بجلی بنانے والا انجن "پروپلشن موٹر” نہیں کہلا سکتا۔
تاہم ایف بی آر نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ صرف ان دو گاڑیوں اور پیش کردہ تکنیکی تفصیلات پر لاگو ہوتا ہے — ہر REEV ماڈل پر خودکار طور پر نہیں۔ انڈس موٹر اب وسیع تر ٹیکس نظام کے جائزے کی توقع رکھتی ہے۔
ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس کی صورتحال
یہ تنازع اس لیے اہم ہوا ہے کہ 2026 میں آٹو ٹیکس نظام بدل چکا ہے۔ آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2021-26 کے 30 جون کو ختم ہونے کے بعد ہائبرڈ گاڑیوں پر جی ایس ٹی کا بوجھ بڑھ گیا تھا — جولائی میں ٹویوٹا نے کرولا کراس ہائبرڈ کی قیمتوں میں 13 لاکھ روپے سے زائد کا اضافہ کیا تھا۔ بعد میں حکومت نے 2000cc تک کی اہل ہائبرڈ گاڑیوں پر جی ایس ٹی 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا (13 ستمبر سے نافذ)، جس کے بعد انڈس موٹر نے کرولا کراس HEV کی قیمتوں میں 5 لاکھ 50 ہزار سے 5 لاکھ 70 ہزار روپے تک کمی کی۔
اس کے باوجود ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس بعض الیکٹرک کیٹیگریز سے کہیں زیادہ ہے — 50kWh تک بیٹری والی مقامی اسمبلڈ چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ایک فیصد سیلز ٹیکس کی رعایت 30 جون 2027 تک برقرار ہے۔ درجہ بندی کا فیصلہ حتمی قیمت پر لاکھوں روپے کا فرق ڈال سکتا ہے، اسی لیے یہ معاملہ ٹویوٹا، چینی مینوفیکچررز اور نئی ٹیکنالوجیز لانے والی کمپنیوں کے درمیان مسابقت کے لیے اہم ہے۔

