اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ سال اسلام آباد میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کے لیے 45 بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ کابینہ ڈویژن کے مطابق غیر ملکی سربراہان مملکت کی حفاظت کے لیے یہ خریداری کم از کم ضرورت ہے۔
خریداری کیوں ضروری ہے؟
کابینہ ڈویژن کا کہنا ہے کہ ایس سی او اجلاس پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے نمایاں ترین بین الاقوامی اجتماعات میں سے ایک ہوگا۔ 1973 میں اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس کے بعد یہ سربراہان مملکت کا سب سے بڑا اجتماع ہوگا۔ اجلاس میں سربراہان مملکت، سربراہان حکومت اور بین الاقوامی تنظیموں کے رہنما شریک ہوں گے۔
اعلامیے کے مطابق مہمان رہنماؤں کی حیثیت کے پیش نظر محفوظ اور قابل اعتماد لاجسٹکس فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال اور بیرونی دشمن عناصر کے خطرات کے پیش نظر مکمل تحفظ مزید اہم ہو جاتا ہے۔
تنقید کا جواب
کابینہ ڈویژن نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ناقدین نے خریداری کے پس منظر کو نظر انداز کیا۔ 45 گاڑیوں کی تعداد متعدد فورمز میں غور و خوض کے بعد طے کی گئی اور یہ کم از کم ضرورت ہے۔
موجودہ گاڑیوں کے بارے میں کابینہ ڈویژن کا کہنا تھا کہ اس کے پاس تازہ ترین بلٹ پروف گاڑیاں 2016 ماڈل کی ہیں جو اس سطح کے اجلاس کے معیار سے بہت پیچھے ہیں۔
لاگت اور پس منظر
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے رواں ماہ کے اوائل میں اس خریداری کے لیے 6 ارب روپے سے زائد کی ضمنی گرانٹ منظور کی تھی۔ ایس سی او سربراہان مملکت کا اجلاس اگست ستمبر 2027 میں اسلام آباد میں شیڈول ہے۔
یہ دفاع اس وقت سامنے آیا ہے جب حکومت نے 17 ستمبر کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ایندھن کی بچت کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات دوبارہ نافذ کیے تھے، جن میں ہر قسم کی گاڑیاں خریدنے پر مکمل پابندی بھی شامل ہے۔ تاہم یہ پابندی ترقیاتی منصوبوں پر لاگو نہیں ہوتی۔ حکومت نے یہ واضح نہیں کیا کہ بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری اس پابندی سے مستثنیٰ ہے یا نہیں۔
ویب ڈیسک

