اسلام آباد: وزارت خزانہ نے اعتراف کیا ہے کہ اگست 2026 میں مہنگائی کی سالانہ شرح بڑھ کر 11.1 فیصد تک پہنچ گئی، جو جولائی میں 9.2 فیصد اور گزشتہ سال اگست میں صرف 3.1 فیصد تھی۔ تاہم وزارت کی ماہانہ معاشی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ میں مینوفیکچرنگ، زراعت، آٹو موبائل اور بیرونی شعبے میں معاشی بحالی کے حوصلہ افزا آثار نظر آئے ہیں۔
مہنگائی کی شرح میں اضافہ
رپورٹ کے مطابق اگست میں ماہانہ بنیادوں پر مہنگائی میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا۔ خوراک، رہائش اور بجلی و گیس، اور ٹرانسپورٹ قیمتیں بڑھنے کی بڑی وجوہات رہیں۔ ان تینوں شعبوں نے مجموعی مہنگائی میں تقریباً 8.2 فیصدی پوائنٹس کا حصہ ڈالا، جن میں سے صرف خوراک کا حصہ تقریباً 4.9 فیصدی پوائنٹس تھا۔ شہری علاقوں میں بنیادی مہنگائی 8.8 فیصد اور دیہی علاقوں میں 8.5 فیصد رہی۔
مالی خسارہ اور ٹیکس وصولیاں
مالی سال کے ابتدائی حصے میں مجموعی مالی خسارہ بڑھ کر 596.6 ارب روپے (جی ڈی پی کا تقریباً 0.4 فیصد) ہو گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 261.5 ارب روپے (0.2 فیصد) تھا۔ اس کے باوجود حکومت نے 196.3 ارب روپے کا پرائمری سرپلس حاصل کیا۔ سود کی ادائیگیوں میں اضافہ اخراجات بڑھنے کی بڑی وجہ رہا — جولائی 2026 میں وفاقی جاری اخراجات 1.092 ٹریلین روپے رہے جبکہ گزشتہ سال جولائی میں 761.6 ارب روپے تھے۔ صرف سود کی ادائیگیاں 490.4 ارب سے بڑھ کر 792.9 ارب روپے ہو گئیں۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے جولائی اور اگست میں 1.722 ٹریلین روپے کے خالص ٹیکس جمع کیے، جو 3.7 فیصد اضافہ ہے۔ سیلز ٹیکس وصولی 13.8 فیصد بڑھ کر 718.9 ارب روپے ہو گئی جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 2.2 فیصد اضافے سے 117.9 ارب روپے رہی۔ تاہم براہ راست ٹیکسوں کی وصولی 2.9 فیصد کمی سے 689.6 ارب روپے اور کسٹم ڈیوٹی 4 فیصد کمی سے 195.9 ارب روپے رہی۔
بیرونی شعبے میں بہتری
بیرونی شعبے کی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی۔ جولائی اور اگست میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر 543 ملین ڈالر رہ گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 853 ملین ڈالر تھا۔ اشیا کی درآمدات 11.4 فیصد بڑھ کر 11.6 ارب ڈالر اور برآمدات 4 فیصد اضافے سے 5.44 ارب ڈالر رہیں۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر 14.7 فیصد بڑھ کر 7.29 ارب ڈالر ہو گئیں جبکہ خدمات کی برآمدات میں 28.8 فیصد اضافہ ہوا اور وہ 1.81 ارب ڈالر رہیں۔
براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً ایک چوتھائی بڑھ کر 494.5 ملین ڈالر ہو گئی جبکہ پورٹ فولیو سرمایہ کاری منفی سے مثبت ہو کر 67.7 ملین ڈالر رہی۔ اس طرح مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری میں 80.2 فیصد اضافہ ہوا اور وہ 562.2 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ ستمبر میں 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کے اجرا کے بعد 18 ستمبر 2026 کو اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 21.4 ارب ڈالر اور مجموعی ملکی ذخائر تقریباً 26.8 ارب ڈالر رہے۔ اسٹیٹ بینک نے 14 ستمبر کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا۔
صنعت اور زراعت میں بحالی کے آثار
لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی پیداوار جولائی 2026 میں سالانہ بنیاد پر 3.03 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 9.5 فیصد بڑھی۔ آٹو موبائل پیداوار میں 57 فیصد، ملبوسات میں 22 فیصد اور تمباکو کی پیداوار میں 35.8 فیصد اضافہ ہوا۔ جولائی اور اگست میں مجموعی آٹو پیداوار 27.6 فیصد بڑھی جبکہ گاڑیوں کی فروخت میں 29.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سیمنٹ کی مجموعی ترسیل 2.8 فیصد بڑھ کر تقریباً 8.5 ملین ٹن ہو گئی۔
زراعت میں بھی ابتدائی مثبت اشارے ملے۔ جولائی 2026 میں زرعی قرضوں کی فراہمی 16.4 فیصد بڑھ کر 271.9 ارب روپے ہو گئی۔ خریف 2026 میں یوریا کا استعمال 2.9 فیصد بڑھ کر تقریباً 2.755 ملین ٹن رہا جبکہ ڈی اے پی کا استعمال 24.5 فیصد کم ہو کر 417,000 ٹن رہ گیا۔ جولائی اور اگست میں ٹریکٹروں کی فروخت 4.7 فیصد بڑھ کر 2,294 یونٹ رہی۔
اسٹاک مارکیٹ اور روزگار
کے ایس ای 100 انڈیکس اگست کے اختتام پر 882 پوائنٹس (0.5 فیصد) اضافے سے 176,976 پوائنٹس پر بند ہوا اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن 19.83 ٹریلین روپے رہی۔ تاہم 29 ستمبر تک انڈیکس کم ہو کر تقریباً 169,600 پوائنٹس پر آ گیا۔ اگست 2026 میں بیورو آف ایمیگریشن نے 27,656 پاکستانی محنت کشوں کو بیرون ملک روزگار کے لیے رجسٹر کیا۔ پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ نے 24 شراکت دار تنظیموں کے ذریعے 5,169 بلاسود قرضے فراہم کیے جن کی مجموعی مالیت تقریباً 381 ملین روپے تھی۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے تحت کم آمدنی والے گھرانوں کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ہدفی امداد فراہم کی جائے گی، جبکہ وفاقی حکومت نے اپنے ایندھن اور انتظامی اخراجات میں کفایت شعاری کے اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں، جن میں غیر آپریشنل سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کمی شامل ہے۔

