ویب ڈیسک
زبان پر اچانک کوئی دانہ، ابھار یا چھالا محسوس ہو تو پریشان ہونا فطری ہے، کیونکہ زبان انتہائی حساس عضو ہے اور معمولی تبدیلی بھی بڑی محسوس ہوتی ہے۔ تاہم اطمینان کی بات یہ ہے کہ زبان کے دانوں کی اکثریت بے ضرر ہوتی ہے۔ یہ عام طور پر معمولی جلن، منہ کے چھالے یا سوجے ہوئے ذائقے کے دانوں کی وجہ سے نکلتے ہیں اور ایک سے دو ہفتے میں خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
دانہ کیسا محسوس ہوتا ہے؟
زبان کا دانہ کسی چھوٹے کنکر، نرم سوجن یا ایسے زخم کی طرح محسوس ہو سکتا ہے جس میں کھانا کھاتے وقت جلن ہو۔ بعض افراد اسے ایک ابھرا ہوا نقطہ محسوس کرتے ہیں جبکہ کچھ کو زبان کے کنارے یا نوک پر دانوں کا جھرمٹ محسوس ہوتا ہے۔ نمکین، مرچیلے یا کھٹے کھانے سے تکلیف بڑھ سکتی ہے۔ زبان میں اعصاب کی کثرت کی وجہ سے ہر تبدیلی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
زبان میں دانے کی عام وجوہات
منہ کے چھالے: زبان میں تکلیف دہ دانے کی سب سے عام وجہ منہ کے چھالے ہیں۔ یہ سفید یا پیلے مرکز اور سرخ کنارے والے چھوٹے زخم ہوتے ہیں۔ یہ متعدی نہیں ہوتے۔ ذہنی دباؤ، معمولی چوٹ، تیزابی غذائیں اور بعض وٹامنز کی کمی ان کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ عام طور پر ایک سے دو ہفتے میں خود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
سوجے ہوئے ذائقے کے دانے (لائی بمپس): جب زبان کے ننھے ذائقے والے دانے سوج جائیں تو سرخ یا سفید رنگ کا تکلیف دہ دانہ بن جاتا ہے۔ یہ بے ضرر ہوتا ہے اور چند دن میں ختم ہو جاتا ہے۔ نمکین پانی کے غرارے اور مرچیلے کھانوں سے پرہیز آرام دیتا ہے۔
زبان کا کٹ جانا: کھاتے، بولتے یا سوتے میں زبان دانتوں تلے آ جائے تو متاثرہ جگہ سوج کر دانے کی صورت اختیار کر لیتی ہے جو چند دن میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔ بہت گرم کھانے سے زبان جل بھی سکتی ہے، اس لیے احتیاط کریں۔
الرجی اور جلن: بعض غذاؤں، ادویات یا تیز ٹوتھ پیسٹ اور ماؤتھ واش سے زبان میں جلن اور دانے نکل سکتے ہیں۔ ہلکی سوجن عام جلن ہو سکتی ہے، لیکن اچانک شدید سوجن خطرناک الرجی کی علامت ہو سکتی ہے جس پر فوری طبی امداد ضروری ہے۔
اورل تھرش: یہ منہ کی فنگل انفیکشن ہے جس میں زبان پر سفید دھبے یا ابھرے دانے بنتے ہیں۔ یہ شیرخوار بچوں، بزرگوں، کمزور قوت مدافعت والے افراد اور دمے کے انہیلر استعمال کرنے والوں میں زیادہ ہوتی ہے۔ اینٹی بائیوٹک کے کورس کے بعد بھی ہو سکتی ہے۔
وائرل انفیکشن: نزلہ زکام کے وائرس سے منہ میں چھالے اور بچوں میں ہاتھ پاؤں منہ کی بیماری سے زبان پر دانے نکل سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ بخار اور تھکاوٹ بھی ہو سکتی ہے۔ یہ عام طور پر خود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
گھریلو علاج
زبان کے اکثر دانوں کو دوا کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ تدابیر آرام دیتی ہیں: نیم گرم نمکین پانی سے دن میں دو تین بار غرارے کریں۔ نرم اور ٹھنڈی غذائیں جیسے دہی، دلیہ اور انڈا کھائیں۔ مرچیلے، نمکین اور کھٹی چیزوں سے پرہیز کریں۔ پانی زیادہ پئیں۔ برف کا چھوٹا ٹکڑا چوسنے سے درد سن ہو جاتا ہے۔ نرم برش سے دانت صاف رکھیں۔ فارمیسی سے منہ کے چھالوں کا جیل بھی مل جاتا ہے۔
کن باتوں سے پرہیز کریں؟
دانے کو نوچیں، دبائیں یا دانت سے نہ کاٹیں، اس سے انفیکشن ہو سکتا ہے۔ اگر دانہ دو ہفتے میں بہتر ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہو یا پھیل رہا ہو تو انتظار کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
کب ڈاکٹر سے رجوع کریں؟
اگر دانہ دو ہفتے بعد بھی ٹھیک نہ ہو، بار بار ایک ہی جگہ نکلے، سخت اور اپنی جگہ جما ہوا محسوس ہو، آسانی سے خون نکلے، سفید یا سرخ دھبے صاف نہ ہوں، زبان سن ہو جائے یا نگلنے میں دشواری ہو تو ڈاکٹر یا دندان ساز سے معائنہ کرائیں۔ کھانے یا دوا کے بعد زبان کی اچانک شدید سوجن ایمرجنسی ہے، فوری اسپتال جائیں۔
بچاؤ کی تدابیر
روزانہ نرم برش سے دانت صاف کریں، متوازن غذا کھائیں، پانی پئیں، بہت گرم چائے اور کھانے سے پرہیز کریں اور تمباکو نوشی ترک کر دیں۔ آئرن، وٹامن بی 12 اور فولیٹ کی کمی بھی منہ کے چھالوں سے جڑی ہے۔
عام سوالات
کیا زبان کا دانہ کینسر کی علامت ہے؟ اکثر صورتوں میں نہیں، لیکن دو ہفتے سے نہ ٹھیک ہونے والے دانے کا معائنہ ضروری ہے۔
دانہ کتنے دن میں ٹھیک ہوتا ہے؟ عام دانے چند دن سے دو ہفتے میں ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
کیا دانے کو دبانا چاہیے؟ نہیں، اس سے نقصان اور انفیکشن کا خطرہ ہے۔
یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے، طبی مشورہ نہیں۔ صحت سے متعلق کسی بھی تشویش پر مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

