خواتین ٹینس کی عالمی تنظیم ڈبلیو ٹی اے نے 2027 کے سیزن کے لیے بڑی اصلاحات کا اعلان کر دیا ہے۔ جمعرات کو کیے گئے اعلان کے مطابق دنیا کی ٹاپ 50 کھلاڑیوں کو اب کم لازمی مقابلوں میں شرکت کرنا ہوگی۔ یہ ایک سالہ تجرباتی منصوبہ ہے جس کا مقصد کھلاڑیوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنا ہے۔
موجودہ نظام کے تحت ٹاپ 50 میں شامل کھلاڑیوں کو سال بھر میں چار گرینڈ سلیم، دس ڈبلیو ٹی اے 1000 اور چھ ڈبلیو ٹی اے 500 مقابلوں میں لازمی شرکت کرنا ہوتی ہے۔ 2027 سے 500 درجے کے لازمی مقابلے چھ سے کم کر کے چار کر دیے جائیں گے، یوں بنیادی لازمی شرکت 14 ڈبلیو ٹی اے مقابلوں اور چار گرینڈ سلیم تک محدود ہو جائے گی۔
رینکنگ کے نظام میں تبدیلی
اصلاحات کا دوسرا اہم پہلو رینکنگ کے طریقہ کار میں تبدیلی ہے۔ کھلاڑی اب اپنے کسی ایک ڈبلیو ٹی اے 1000 مقابلے کے نتیجے کی جگہ ڈبلیو ٹی اے 500 یا 250 درجے کے کسی بہتر نتیجے کو شمار کرا سکیں گی۔ عملی طور پر اگر کوئی کھلاڑی لازمی 1000 درجے کا مقابلہ چھوڑ دے یا ابتدائی مرحلے میں ہار جائے تو چھوٹے مقابلے میں حاصل کردہ پوائنٹس گنے جائیں گے۔
ڈبلیو ٹی اے ان اقدامات کے اثرات کا جائزہ لے گی اور پھر 2028 کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔ یہ قدم مردوں کے ٹورنامنٹ کی طرز پر ہے؛ رواں سال جنوری میں اے ٹی پی نے بھی ٹاپ 30 کھلاڑیوں کے لازمی 500 درجے کے مقابلے پانچ سے کم کر کے چار کر دیے تھے۔
تمام مشترکہ مقابلوں میں برابر انعامی رقم
انعامی رقم کا اعلان شاید زیادہ دیرپا تبدیلی ثابت ہو۔ پہلی بار تمام "مشترکہ” ڈبلیو ٹی اے 1000 مقابلوں میں انعامی رقم مردوں کے اے ٹی پی مقابلوں کے برابر ہوگی۔ 2027 میں روم، کینیڈا اور سنسناٹی کے مقابلے برابری کی سطح پر آ جائیں گے اور انڈین ویلز، میامی، میڈرڈ اور بیجنگ کا ساتھ دیں گے جہاں پہلے ہی انعامی رقم برابر کی جا چکی ہے۔
چاروں گرینڈ سلیم میں 2007 سے مردوں اور خواتین کو برابر انعامی رقم مل رہی ہے، لیکن اس سے نچلے درجے میں مرد کئی مقابلوں میں خاصی زیادہ رقم جیتتے رہے ہیں۔
26 ممالک میں 55 مقابلے
2027 کے کیلنڈر میں 26 ممالک اور خطوں میں 55 مقابلے شامل ہوں گے۔ سیزن کے اختتامی ڈبلیو ٹی اے فائنلز 2027 سے شمالی کیرولائنا کے شہر شارلٹ منتقل ہو جائیں گے جہاں کم از کم تین سال تک ایک این بی اے ایرینا میں مقابلے ہوں گے۔ ٹور نے منیلا میں ڈبلیو ٹی اے 250 درجے کے مقابلے کی توسیع کی بھی تصدیق کی جو مقامی کھلاڑی ایلکس ایالا کی مقبولیت کی لہر پر سوار ہے۔ فروری کے کیلنڈر میں متحدہ عرب امارات اور قطر کے تین مقابلے بھی برقرار رہیں گے۔
یہ تبدیلیاں ٹور آرکیٹیکچر کونسل کی سفارشات پر کی گئیں جس کی سربراہی عالمی نمبر تین جیسکا پیگولا کر رہی تھیں۔ کئی ماہ سے کھلاڑی شیڈول کی بھرمار اور جسمانی دباؤ کی شکایت کر رہے تھے۔
پیگولا نے کہا: "کھلاڑیوں کے طور پر ہم سال کا بیشتر حصہ سفر میں گزارتے ہیں، اس لیے شیڈول میں لچک ہمارے لیے بہت معنی رکھتی ہے۔ 2027 کی تبدیلیاں ہمیں اپنے سیزن اپنی ترجیحات کے مطابق بنانے کی زیادہ آزادی دیں گی۔ یہ کھلاڑیوں کے لیے ایک اہم قدم ہے۔”
ویب ڈیسک

